صفحۂ اول
قابلِ تلاش دستاویز
اصل دستاویز
درست متن دیکھنے کے لیئے Firefox یا IE استعمال کریں
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا
(آلِ عمران-١٠٣)

وحدتِ اُمّت

اہل قبلہ کی تکفیر اور فقہی اختلافات کی بنا پر ملت میں محاذ آرائی کے خلاف
ایک مدلل اور مستند تحریر
مصنف
مولانا محمد اسحاق صاحب
خطیب جامع مسجد محمدی کریمیہ، فیصل​آباد
مکتبہ ملِّیہ
مکان نمبر ۸۱ گلی نمبر ۸ گلگشت کالونی، فیصل​آباد، فون ۷۱۸۷۲۱


  پیش لفظ
دیباچہ
نہایت ضروری وضاحت
خطبہ
تلخیص واقتباس
وجود کے مراتبِ خمسہ کی تفصیل
تاویل کے متعلق امام صاحب کی رائے
قدیم علمِ کلام کا طرزِ استدلال
اجماع
تأثرات


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

پیش لفظ

دورِ حاضر میں مِلّت اسلامیہ کو درپیش چیلنجوں کی نوعیت کثیرالجہات ہے، ٹیکنالوجی کے حوالہ سے پسماندگی ہمارا ایک ایسا روگ ہے جس نے ہمیں بار بار ہزیمتوں اور رسوا کن شکستوں سے دوچار کیا ہے، پھر یہود وہنود اور دیگر غیر مسلم طاقتوں کی سازشیں اور جارحیتیں ہیں جن کا مقصد حیات ملت کے مادّی وَسائل پر تسلّط اور مسلمانوں کی نئی نسل کا ثقافتی ارتداد ہے لیکن سب سے زیادہ تباہ کن اور شرم ناک مظہر، مختلف حوالوں سے ہماری آپس میں محاذ آرائی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس گھر کو جو آگ لگی ہے تو گھر کے چراغ ہی سے لگی ہے، دشمن کا تو کام ہی دشمنی کرنا ہے اس سے کیا گلہ اور کیسی شکایت۔ غضب تو یہ ہے کہ ہم خود دشمن کی گیم کھیل رہے ہیں، یہاں پر بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے اور ہماری اپنی تلوار کا حال تو یہ ہے کہ بقولِ شاعر

؂ جب چلی اپنوں کی گردن پر چلی
چُوم لوں منہ میں تری تلوار کا

ہماری اندرونی محاذ آرائی کا سب سے افسوس​ناک پہلو، مذہب یا مسلک کے حوالے سے تفریق بین​المسلمین ہے۔ ہمارے ہاں اپنے علاوہ دیگر اہلِ قبلہ کی تکفیر ایک دل پسند مشغلہ ہے اور فقہی اختلافات کی بناء پر مخالفتیں اور دشمنیاں پالنا ہمارا روز مرّہ کا معمول۔ زیر نظر رسالہ محاذ آرائی کی اس قسم کو کم کرنے کی ایک درد مندانہ کوشش ہے۔

دراصل یہ رسالہ راقم کے ایک خطبۂ جمعہ پر مبنی ہے جو مؤرخہ ۸ رمضان​المبارک ۱۴۱۲ھ کو جامع مسجد کریمیہ فیصل​آباد میں دیا گیا۔ اصل خطبہ پنجابی زبان میں تھا جسے احباب نے ریکارڈ کر لیا اور بعد میں اُسے اُردو زبان میں لکھا گیا۔ اس مشق میں کئی احباب نے حصہ لیا۔ بالخصوص جناب شفیق الرحمٰن صاحب، قاری عبدالمنان صاحب، جناب محمد یٰسین صاحب، جناب عبدالرحمٰن صاحب اور جناب نذر محی الدین صاحب (ریٹائرڈ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمۂ تعلیم (سکولز) فیصل​آباد ڈویژن) نے اس کار خیر کو بڑے ذوق وشوق سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ خُدا ان سب کو جزائے خیر دے۔ بہرحال موجودہ شکل میں رسالہ ہذا کے جُملہ مندرجات و بیان کی مکمل ذمہ داری راقم کی اپنی ہے۔

اس سے قبل اس رسالہ کا ایک ایڈیشن محدود تعداد میں شائع کیا گیا تھا، جس پر ہمیں کثیر تعداد میں اربابِ علم و فضل اور عام قارئین کی جانب سے قیمتی آراء اور مشورے موصول ہوئے، ان میں سے کچھ شاملِ اشاعت ہذا ہیں۔ تمام موصول شدہ آراء سے استفادہ کیا گیا ہے اور اُن کی روشنی میں موجودہ ایڈیشن کو زیادہ سے زیادہ جامع بنانے کی سعئی کی گئی ہے۔ ہمارے بعض کرم فرمائوں نے رسالہ ہذا کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسلوبِ بیان کو میزانِ ادبِ عالیہ میں تولنے کی کوشش کی ہے، نیز بعض فقرات اور بیانات کے اعادے پر بھی تنقید کی ہے۔ ایسے احباب کی خدمتِ اقدس میں گزارش ہے کہ یہ بندۂ ناچیز ادیب اور قلمکار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی پیشہ​ور مصنف ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ احباب نے میرے ایک خطبۂ جمعہ کو آج کو دور میں اُمّت مسلمہ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اُردو کا جامہ پہنا کر شائع کرانے میں میری معاونت کی اور اس ضمن میں انھوں نے میرے رنگِ خطابت کو جوں کا توں برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ خطبہ میں مختلف سطحوں کے سامعین پیشِ نظر ہوتے ہیں اور ایک ہی بات کا مختلف انداز میں دہرانا تمام سامعین تک ابلاغ کی ایک ضرورت ہوتی ہے۔ اہلِ علم بخوبی واقف ہیں کہ یہی وہ چیز ہے جسے قرآنی اصطلاح میں تصریف کہا گیا ہے، ظاہر ہے کہ خطبہ میں منطقی ربط وترتیب یا کسی خاص علمی اندازِ تصنیف کی تلاش بے محل ہو گی۔ یہ رسالہ تو محض امت کو تفرقہ​بازی اور محاذآرائی سے بچانے کے لیے دُکھی دل کی ایک پکار ہے، ایک فریاد ہے اور اہلِ نظر تو جانتے ہیں کہ فریاد کی کوئی لَے نہیں ہوتی اور نالہ پابندِ نَے نہیں ہوتا۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے

؂ الفاظ کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

لہٰذا رسالۂ ہذا کو اسی تناظر میں پڑھا، دیکھا اور پَرکھا جائے، بہر حال ان جملہ احباب کا جنہوں نے اپنے قیمتی مشوروں سے راقم کو نوازا      مکرر شکریہ!
ملتِ اسلامیہ کا ایک ادنیٰ خیر خواہ
محمد اسحاق
خطیب جامع مسجد محمدی کریمیہ
جیلانی پورہ، گلی نمبر ۱، ستیانہ روڈ
فیصل​آباد
اوپر جائیں

دیباچہ
کسی انسانی گروہ کو اس کی شامتِ اعمال کی بناء پر اللّٰه عزوجل گونا گوں طریقوں سے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ عذاب کی بدترین شکل کی طرف اشارہ سورۂ انعام کی آیت نمبر ۶۵ کے ایک حصہ میں یُوں کیا گیا ہے :

اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ
یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس کی) لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ (مترجم مولانا فتح محمد صاحب جالندھری)


اس فرمانِ الٰہی کی تفسیر میں علامہ پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہری حفظہ​اللّٰه تحریر فرماتے ہیں: ”اس کے علاوہ سخت​تر عذاب یہ ہے کہ آپس میں انتشار اور بے اتفاقی کی وباء پھوٹ پڑتی ہے، ایک قوم کے فرزند، ایک ملت کے افراد مختلف ٹولیوں اور فرقوں میں بٹ جاتے ہیں، کہیں مذہب وجہ فساد بن جاتا ہے اور کہیں سیاست باعثِ انتشار۔ اپنوں کی عزت اپنے ہاتھوں خاک میں ملا دینا بڑا کارنامہ تصور کیا تا ہے۔ اَوروں کو رہنے دیجیے اپنے گھر کا حال دیکھیے۔ جب سے ہم نے صراطِ مستقیم سے انحراف کیا ہے ہم کِن پستیوں میں دھکیل دیے گئے ہیں۔ ایک خدا، ایک رسول، ایک کتاب اور ایک کعبہ پر ایمان رکھنے والے کس نفاق اور انتشار کا شکار ہیں۔ اللّٰه تعالیٰ ہمارے حالِ زار پر رحم فرمائے“۔ (تفسیر ضیاءالقرآن جلد اول صفحہ ۵۶۶)۔ ایک شاعر نے اسی مفہوم کو یوں بیان کیا ہے

؂ ہر دل میں دورتیں بھری ہیں
محسن یہ عذاب کی گھڑی ہے

بدقسمتی سے پاکستان میں عذاب کی یہ گھڑی آچکی ہے جن کو اللّٰه تعالیٰ نے چشمِ بینا دی ہے وہ اس لمحہ بہ لمحہ شدیدتر ہوتے ہوئے عذاب کی ہولناکیوں کو دیکھ رہے ہیں اور اس کے جہنمی شعلوں کی تپش کو اپنے دِلِ دردمند میں محسوس کر رہے ہیں۔ یہ رسالہ اسی محاذآرائی کی آگ کو جس حد تک بھی ممکن ہو بجھانے کی ایک کوشش ہے اور اس کا واحد مقصد وحدتِ امت کو بحال کرنا ہے۔ دُعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرے اور انہیں بھائی بھائی بنا دے۔
وما ذٰلك على اللّٰه بعزيز۔
اوپر جائیں

نہایت ضروری وضاحت

اس رسالہ میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مختلف اسلامی فرقوں کو نہ تو ایک دوسرے کی تکفیر کرنا چاہیے اور نہ ہی محض فقہی اختلافات کی بناء پر ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز باجماعت سے احتراز کرنا چاہیے۔ لیکن واضح رہے کہ ایسے گروہ جو حضور خاتم النّبیین صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے بعد کسی مدعی نبوت کے قائل ہوں۔ انہیں ہم اسلامی فرقوں میں شمار نہیں کرتے، کیونکہ وہ خود ہی ملّت اسلامیہ سے خروج کا ارتکاب کر چکے ہیں، یہ بات اگرچہ اظہر من​الشمس ہے اور بظاہر یہ وضاحت غیر ضروری نظر آتی ہے لیکن چونکہ منفی سوچ رکھنے والے اصحاب اصلاح بین​الاُمت کی ہر کوشش کو غلط رنگ دینے کے عادی ہیں۔ اس لیے یہ وضاحت کر دی گئی ہے تا کہ ”فی سبیل اللّٰه فساد“ کرنے والے لوگوں کو اس قسم کا کوئی موقع کم از کم ہماری طرف سے فراہم نہ ہو سکے۔ نیز جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی مسلّمہ اسلامی فرقے کو کافر نہیں کہتے تو حاشاوکلا اس میں یہ امر متضمن نہیں ہے کہ ہم مختلف فرقوں کی گمراہیوں کا جواز پیش کر رہے ہیں۔ ہمارا مطلب تو یہ ہے کہ جو گمراہ ہے اس کو صرف گمراہ کہو، اس کی گمراہی کا ردّ کرو۔ لیکن کافر کہنے سے گریز کرو، کیونکہ بقول مولانا ثناء اللّٰه امرتسری رحمہ اللّٰه ہمارا اس باب میں مسلک وہی ہے جو امام​المحتاطین امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰه کا ہے لَا نُكَفِّرُ اَهْلَ الْقِبْلَةِ۔ جب ہم نے وحدتِ اُمّت کا پہلا ایڈیشن دوستوں کی خدمت میں پیش کیا تو جہاں اس کی موافقت اور مخالفت میں بہت سی آراء آئیں وہاں سب سے بڑا اعتراض یہ آیا کہ اسلام کا دائرہ صرف فقہی اختلاف رکھنے والے مسلک تک محدود ہے اور جو لوگ اہلِ سنت سے مختلف عقائد رکھتے ہیں ان کے پیچھے نہ نماز جائز ہے اور نہ رشتے ناتے۔ مقصد یہ کہ عقائد کا اختلاف رکھنے والے لَا نُكَفِّرُ اَهْلَ الْقِبْلَةِ۔ کی فہرست میں نہیں آتے۔ ہم نے از سر نو جائزہ لیا ہے۔ پہلے ایڈیشن میں بھی ایک دو آراء اس سلسلہ میں شامل کی گئی تھیں، لیکن اب تفصیل کے ساتھ اس سلسلہ میں صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم، تابعین عظامؒ، ائمہ اہل سنتؒ اور فقہاءؒ کی آراء شامل کر رہے ہیں۔ یہ حوالے ان لوگوں کے ہیں جن پر مذہب اہلِ سنت کی پوری عمارت کھڑی ہے اور کوئی بھی اہلِ سنت ان میں سے کسی کی مخالفت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔

آج سے کوئی نو سو سال پہلے امام غزالی رحمۃ اللّٰه علیہ نے اسی مسئلے پر اپنے ایک رسالہ ”التفرقة بين الاسلام والزندقة“ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس رسالہ کی ایک تلخیص علامہ شبلی مرحوم نے اپنی کتاب الغزالی میں دی ہے۔ تلخیص مذکورہ کے اقتباس کو ضمیمہ کے طور پر شاملِ اشاعت ہذا کیا جا رہا ہے۔

اوپر جائیں
خطبہ
بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بَعْدَ الْحَمْدِ وَالصَّلٰوۃِ، اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ:
﴿ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ﴾۔ ( آلِ عمران: ١٠٣)

اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا


موضوع زیر بحث نہایت اہم اور حساس نوعیت کا ہے، چونکہ ہم اس قسم کی باتوں کے سننے اور ان پر غور کرنے کے عادی نہیں ہیں، لہٰذا کچھ احباب کے لیے یہ ناپسندیدہ ہوں گی، لیکن جس مقصد کو پیش نظر رکھ کر آپ سے مخاطب ہوں، اس کا تقاضا ہے کہ آپ تحمل سے بات سنیں اور پھر اس پر غور کریں، کیونکہ امتِ مسلمہ کی حیات وبقاء کے لیے اس کا ذہن نشین ہونا اور اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ ورنہ تو مسلمان صدیوں سے اپنی قوت ضائع کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے اور دین کے دشمنوں کو موقع فراہم کریں گے کہ وہ انہی سے کام لے کر امت مسلمہ کو تباہ و برباد کرتے رہیں۔

امتِ مسلمہ میں فروعی اختلافات ایک دو روز کا قصہ نہیں۔ حضور نبی اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے دُنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ہی اختلافات نمودار ہو گئے تھے، لیکن اُس دور میں اختلافات وجہ انتشار نہیں بنے۔ اُن بزرگوں نے اتحاد برقرار رکھا، لیکن آج اختلافات کی فتنہ​گری نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ یاد رکھیے کہ مسلمان ایک ملت ہیں اور کلمۂ طیبہ پڑھ لینے والے سب لوگ ایک بدن کے اعضاء کی طرح ہیں، لہٰذا کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے کو اسلام سے خارج کرے یا اسلام کا ٹھیکے دار بن کر لوگوں پر کفر کے فتوے لگائے، تکفیر وہ جرم ہے جس کے مقابلہ میں قتل کرنا، ڈاکے ڈالنا اور زنا کرنا ہلکے جرائم ہیں چونکہ یہ جُرم سرزد ہو رہا ہے، لہٰذا آج کے اس خطاب کا مقصد اُمت مسلمہ کو اتحاد کی دعوت دینا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میں اس واقعہ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جسے برصغیر کی ممتاز شخصیت مولانا ابو الکلام آزادؒ نے اپنی معروف کتاب ”تذکرہ“ میں درج کیا ہے فرماتے ہیں:

”ایک یہودی نے حضرت علی رضی اللّٰه عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں نے تو ابھی اپنے نبی صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو دفن بھی نہیں کیا تھا کہ اُمّت میں فساد برپا ہو گیا تھا (کتنی چوٹ تھی اور بات بھی ٹھیک تھی، کیونکہ کفن دفن سے پہلے ہی خلافت کا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا تھا، ساتھ ساتھ کچھ اور جھگڑوں نے بھی سر اٹھا لیا تھا) کوئی مُلَّا ہوتا تو کہہ دیتا واقعی ہمارا دین تو اسی روز ختم ہو گیا تھا، لیکن حضرت علی رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا کہ ہمارا اختلاف پیغمبر کے بارے میں نہیں ہوا بلکہ ان سے منسوب روایات کے بارے میں ہوا، کسی کو یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ نعوذ باللّٰه پیغمبر صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم جھوٹے ہیں، سب لوگ ایمان پر قائم رہے، اختلاف روایات کے فہم پر تھا، نبی اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی نبوت پر نہیں، گویا لوگوں نے حدیث کی تشریح میں اختلاف کیا، نبی اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی رسالت کے برحق ہونے پر کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا، یہودی کے الزام کو رد فرمانے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللّٰه عنہ نے یہودیوں کو بھی آئینہ دکھایا اور کہا تم ذرا اپنے گریبان میں تو جھانک کر دیکھو، فرعون کی غرقابی کے بعد تمہارے پائوں سے بحیرۂ قلزم کا پانی ابھی خشک نہیں ہوا تھا، خود حضرت موسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان موجود تھے کہ تم نے ایک قوم کو بچھڑے کی پوجا کرتے دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تقاضا شروع کر دیا کہ ہمیں بھی ایسا خدا بنا کر دو جس طرح کا ان لوگوں کا ہے۔ یہ مطالبہ کر کے نہ صرف تم دین سے پھر گئے تھے بلکہ توحید کو بھی خیر باد کہہ دیا تھا۔

وَقَالَ لَهٗ بَعْضُ الْيَهُوْدِ مَا دَفَنْتُمْ نَبِیَّکُمْ حَتّٰى اُخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ فَقَالَ لَهٗ۔ اِنَّمَا اخْتَلَفْنَا عَنْهُ لَا فِیْهِ، وَلٰکِنَّکُمْ مَا جَفَّتْ اَرْجُلُکُمْ مِّنَ الْبَحْرِ حَتّٰى قُلْتُمْ لِنَبِیِّکُمُ اجْعَلَ لَنَا اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَةٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ
(نهج البلاغه مع شرح الشيخ محمد عبده مفتي الديار المصريه، الجزء الثاني، ص:۲۱۱)
حضرت علی رضی اللّٰه عنہ کا یہ جواب اللّٰه پر کامل یقین اور نبی اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم پر پختہ ایمان کا مظہر ہے، یہ واقعہ بیان کر کے مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللّٰه کہتے ہیں: یوں تو حضرت علی رضی اللّٰه عنہ کی کوئی بات ایسی نہیں جس پر فصاحت و بلاغت قربان ہو، لیکن اس واقعہ میں علم کے سمندر پنہاں ہیں، ایسا جواب حضرت علی رضی اللّٰه عنہ ہی دے سکتے تھے جن کے بارے میں صحیح بخاری میں حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ کا قول درج ہے۔

قَالَ عمر رضي اللّٰه عنه: أَقْرَؤُنَا أُبَيٌّؓ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقْضَانَا عَلِيٌّؓ
(البخاري مع فتح الباري جلد نمبر ٨، صفحہ نمبر ١٦٧، حدیث: ٤٤٨)
کتاب التفسیر باب قوله (ما ننسخ من ایة او ننسھا)

حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ نے کہا: ہم میں سب سے بہتر قاری قرآن اُبے بن کعب رضی اللّٰه عنہ ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ علی رضی اللّٰه عنہ میں قضاء یعنی فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔


وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَقْضَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ۔ (فتح الباري، ٨، ص: ٦٧) وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَ الْحَاكِمِ۔ (فتح الباري، ج: ٧، ص: ٧٤)

ہم کہا کرتے تھے کہ مدینہ میں سب سے بہتر قضاء یعنی فیصلے کرنے کی صلاحیت علی رضی اللّٰه عنہ کے پاس ہے۔

حضرت علی رضی اللّٰه عنہ ہم میں سب سے بڑے قاضی ہیں، لہٰذا یہ انہی کا حصہ تھا کہ وہ اس قسم کے سوال کا ایسا مسکت جواب دیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللّٰه نے ہی ترجمان القرآن میں سورۂ طٰهٰ کی تفسیر میں ایک واقعہ رقم کیا ہے جو ہم سب کے لیے سبق​آموز بھی ہے اور باعثِ عبرت بھی۔ مولانا آزاد رحمہ اللّٰه لکھتے ہیں کہ فقہ ہائے مذاہبِ اربعہ مدوّن ہو گئے اور تقلید شخصی کا التزام ہو گیا، تو سوال پیدا ہوا کہ اماموں میں افضل کون ہے؟ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰه یا امام شافعی رحمہ اللّٰه ، اس قضیے سے فرقہ وارانہ بحث شروع ہو گئی اور اس بحث نے جنگ و قتال کی شکل اختیار کر لی، چنانچہ ہلاکو خان کو اسلامی ممالک پر حملہ کرنے کی ترغیب خراسانیوں کے اس جھگڑے سے ملی تھی، ایک گروہ نے دوسرے کی ضد میں اُسے حملے کی دعوت دی اور شہر کے پھاٹک وا کر دیے، پھر جب تاتاریوں کی تلوار چلی تو اس نے نہ کسی شافعی کو چھوڑا اور نہ کسی حنفی کو۔

تاریخِ اسلام کے اس سیاہ ورق سے کون آشنا نہیں جب شیعہ سنی مناقشت کی بدولت سقوطِ بغداد کا المناک سانحہ پیش آیا، عباسی خلیفہ معتصم کے دور میں شیعہ سنی اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ ایک گروہ نے ہلاکو خان کو بغداد پر چڑھائی کی دعوت دی، اس نے مسلمانوں کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر اہل بغداد پر جو مظالم ڈھائے اور جو سفاکی کی اور غارت گری و خون ریزی روا رکھی اس کی داستان انتہائی المناک ہے۔ بغداد جو تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور مہذب دنیا کا عظیم​ترین شہر تھا، کھنڈرات کا ڈھیر بن گیا، صدیوں کے محفوظ علمی اور فنی ذخائر یا تو جلا دیے گئے یا دریا بُرد کر دیے گئے۔ تمدنی ترقی کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ یوں اپنوں کی ذاتی مخالفتوں کے باعث امتِ مسلمہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، بہرحال یہ ہمارا موضوع نہیں ہے اور نہ کسی کو گناہ​گار یا بے گناہ ثابت کرنا ہے، بلکہ صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ مسلمانوں کی فرقہ پرستی کی لعنت نے ملتِ اسلامیہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

اور پھر یہ پروپیگنڈہ کہ اسلام میں تہتر (۷۳) فرقے ہیں، لہٰذا دین باقی نہیں رہا اور برباد ہو گیا ہے۔ اسلام کے دشمنوں کا پھیلایا ہوا ہے، اسلام بالکل محفوظ ہے، امتِ مسلمہ قرآن پر قائم ہے، لوگ رسولِ خدا صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے منکر نہیں ہیں، یہ تو ہماری نادانی اور حماقت ہے کہ کافروں کی بجائے ہم خود ہی پکار اٹھتے ہیں کہ کلمہ مٹ گیا اور ہم سب ہی کافر ہیں۔

توبہ! توبہ! ۔ خدا کے پیغمبر صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی امت بالکل صحیح و سالم ہے اور اسلام بھی تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔ آپ درخت کو دیکھتے ہیں، اس کی ایک جڑ ہوتی ہے، ایک تنا ہوتا ہے، شاخوں میں سے اوپر فضا میں جا کر کوئی مشرق کی طرف نکل جاتی ہے کوئی مغرب کی طرف، کیا اب وہ درخت کی شاخیں نہیں رہیں، اللّٰه تعالىٰ نے بھی ہر فرد کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے اور وہ اپنی بساط کے مطابق مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ کون سی شے ہے جو اسلام اور کفر میں وجۂ امتیاز ہے، جو آدمی دائرۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے وہ اعلان کرتا ہے کہ محمد صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم خدا کے سچے پیغمبر ہیں۔ ایمان نام ہے نبی صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو اللّٰه کا سچا پیغمبر تسلیم کر لینے کا، یہ اقرار اسے دائرۂ اسلام میں لے آتا ہے اور یہی اقرار اُسے کافر سے الگ کر دیتا ہے، اگر کوئی بدنصیب دائرۂ اسلام کو پھلانگ کر اعلان کرتا ہے کہ وہ محمد صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو رسول نہیں مانتا تو وہ اس انکار کی بناء پر کافر ٹھہرے گا جو اقرار اسے دائرۂ اسلام میں لایا تھا، اس کا انکار اسے اسلام سے خارج کر دے گا اور وہ مسلمان نہیں رہے گا۔

جو لوگ حضرت محمد صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو نبی آخر​الزماں مانتے ہیں، میں ان سب کو اپنے دینی بھائی تصور کرتا ہوں، میرے دل میں کسی کے خلاف بغض و عناد نہیں ہے، ہاں جن مسائل کو میں غلط سمجھتا ہوں ان کی اعلانیہ تردید کرتا ہوں، مگر کسی کو کافر نہیں کہتا، لوگ مساجد میں اذانیں دیتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں، رسولِ خداصلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، یہ سب مسلمان ہیں اور کسی کلمہ گو مسلمان کو کافر کہنا ایک بہت بڑا جرم ہے، جو لوگ کسی مسئلے میں اختلاف کی بنا پر کسی کو کافر گردانتے ہیں وہ دراصل اسلام کے دشمن ہیں، دین کے خادم نہیں، کفار کی ایجنٹی کرنے والے ایسے مُلّا یقیناً سزا کے مستحق ہیں، البتہ جس روز کوئی بدبخت کہہ دے کہ میں عیسائی یا ہندو ہو گیا ہوں، اس روز اسے کافر کہیے، لیکن اگر وہ قرآن کو مانتا ہے، نبی کریم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو سچا اور آخری نبی تسلیم کرتا ہے۔ حدیثوں پر بھی یقین رکھتا ہے، تو کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے بارے میں اختلاف کی بناء پر وہ کافر نہیں ٹھہرے گا، ایک آدمی کسی حدیث کی صحت کے بارے میں شک کا اظہار کرتا ہے اور اس کے مقابلے میں دوسرے راوی یا روایت کو صحیح سمجھتا ہے تو ایسا شخص اسلام کا سچا خادم ہے، کیونکہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق حصولِ علم کی جدوجہد میں مصروف ہے، ایک فرقہ ایک خاص حدیث کو صحیح سمجھتا ہے، دوسرا ضعیف سمجھ کر ردّ کر دیتا ہے، تو اُسے کفر اور اسلام کا جھگڑا کیسے کہا جا سکتا ہے، کیونکہ کوئی بھی اسلام کو ردّ نہیں کر رہا ہوتا، آدمی کافر اُس وقت ہو گا جب وہ پیغمبر صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کا انکاری ہو گا۔ حدیث کی تفہیم کے لیے سعئی کرنے والا غلطی کر سکتا ہے لیکن کفر کے دائرے میں نہیں آتا، لہٰذا بلا وجہ کسی کو کافر کہتے رہنا کسی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

حدیثوں کے بارے میں اختلافات صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم کے درمیان بھی تھے۔ اس کی ایک مثال شیخین (بخاری ومسلم) کی یہ روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ کا خیال تھا کہ اگر جنبی کو غسل کے لیے پانی نہ ملے تو وہ تیمم سے پاک نہیں ہو سکتا، لیکن حضرت عمار رضی اللّٰه عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک دفعہ رسولِ کریم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے ہم سفر تھے، انہیں غسل کی حاجت ہو گئی، پانی میسر نہ آ سکا تو انہوں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لگائی، بعد میں رسول اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم سے اس عمل کا تذکرہ کیا تو آپ صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا صرف اس قدر کر لینا کافی تھا (یہ کہتے ہوئے آپ صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور چہرہ مبارک اور ہاتھوں پر مسح کیا) لیکن حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ نے حضرت عمار رضی اللّٰه عنہ کے اس بیان کو تسلیم نہیں کیا اور کسی غیر واضح ضعف کے سبب جو ان کو روایت میں نظر آیا، انہوں نے اِس کو ردّ کر دیا اور یہ روایت ان کے نزدیک دلیل نہ ٹھہری، اگرچہ بعد کے زمانہ میں بکثرت طریقوں سے یہ حدیث مشہور ہو گئی، اس کے ضعیف ہونے کا وہم ماند پڑ گیا اور لوگ اس پر عمل پیرا ہو گئے۔

اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ممکن ہے کہ صحابی تک کوئی حدیث پہنچی ہی نہ ہو، مثلاً امام مسلم رحمہ اللّٰه کی یہ روایت کہ حضرت عبد اللّٰه بن عمرو بن العاص رضی اللّٰه عنہ عورتوں کو یہ حکم دیتے تھے کہ غسل کرتے وقت وہ اپنے بال کھولیں، جب حضرت عائشہ رضی اللّٰه عنھا نے یہ سنا تو تعجب فرمایا اور کہا کہ عبد اللّٰه ابن عمر رضی اللّٰه عنہ عورتوں کو بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں، وہ کیوں نہیں کہتے کہ عورتیں بال ہی منڈوا لیں، حالانکہ میں اور رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم ایک ہی برتن میں سے غسل کرتے تو میں اس کے سوا کچھ نہ کرتی، کہ اپنے بالوں پر تین دفعہ پانی بہا لیتی۔ امام زہری رحمہ اللّٰه نے ذکر کیا ہے کہ ہند رضی اللّٰه عنہا کو یہ علم نہ تھا کہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے استحاضہ کی حالت میں بھی نماز پڑھنے کی اجازت دے دی ہے، اس لیے وہ اس حالت میں نماز نہ پڑھتیں اور ترکِ نماز کے غم سے رویا کرتیں۔

صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم میں اختلافات کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم نے حضور اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو ایک عمل کرتے دیکھا، لیکن اس عمل کی حیثیت کے تعین میں اختلاف ہو گیا، بعض نے رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے اس فعل کو کار ثواب خیال کیا اور بعض نے ایک امر جائز سمجھا مثلاً تحصیب (وادیٔ محصّب میں نزول) آنحضرت صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے سفر حج کے دوران ابطح کی وادی میں قیام فرمایا، آپ صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کا وہاں قیام کرنا حضرت عبد اللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ کے نزدیک تو کار ثواب ٹھہرا اور انہوں نے اسے حج کی سنتوں میں شمار کیا، جب کہ حضرت عائشہ رضی اللّٰه عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللّٰه عنہ کے نزدیک وہاں اترنا ایک اتفاقی امر تھا نہ کہ کسی ثواب کی خاطر۔

ان واقعات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو بتایا جائے کہ بظاہر اصحاب رضی اللّٰه عنہم کے درمیان انتہائی بُعد کے باوصف کسی نے دوسرے کو کافر تو کُجا گمراہ اور جاہل بھی نہ کہا، لیکن آج کل نقطۂ نظر یا فہم کے معمولی اختلاف پر فوراً کفر کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے۔ خدارا مُفت میں جہان کے لوگوں کو تماشا نہ دکھائیے۔ اختلافات کے باوجود ہر کلمہ گو مسلمان ہے۔ ممکن ہے اس کی روایت ضعیف ہو یا وہ تحقیق کے دوران غلط نتیجے پر پہنچا ہو۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ غلط ہے تو تردید کریں، مگر کافر تو نہ کہیں۔ اللّٰه تعالیٰ کو اسلامی وحدت پسند ہے۔ اس وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے اللّٰه تعالیٰ نے خود اس کا انتظام فرمایا دیا تا کہ ملت ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو، کیونکہ اس امت کو قیامت تک موجود رہنا ہے، اللّٰه تعالیٰ نے کیا انتظام فرمایا! علامہ اقبال کی زبانی سنیے۔

؏ بر رسولِ ما رسالت ختم کرد
نیز فرماتے ہیں:
تانہ ایں وحدت زدستِ مارود
ہستی مابا ابد ہمدم شود
لا نبی بعد زاحانِ خدا ست
پردۂ نامو سدینِ مصطفیٰ است
حق تعالیٰ نقشِ ہر دعویٰ شکست
تا ابد اسلام را شیرازہ بست

گویا اللّٰه تعالیٰ نے اپنا آخری نبی بھیج کر تکفیر کا دروازہ بند کر دیا ہے اور ختمِ نبوت کے صدقہ میں کافر ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے، اب کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہو گا جس کو نہ ماننے سے کوئی کافر ہو جائے، مجدد آئیں، مہدی آئیں، ان کا آنا برحق لیکن ان میں سے کوئی یہ دعویٰ نہیں کرے گا کہ اُس کے نہ ماننے والا کافر ہو گا، کیونکہ اب کوئی بھی اللّٰه کا نیا پیغام لے کر نہیں آئے گا، یہی تو اللّٰه کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم پر سلسلۂ نبوت ختم کر کے تکفیر کے باب کو بند کر دیا ہے، آنے والے اسلام کی خدمت کریں گے، اللّٰه انہیں اس کا اجر دے گا، حضرت رسول اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو آخری نبی مان لینے کے بعد یہ امت محفوظ ہو گئی ہے اور ہم رسول خدا کو ماننے کے بعد دوسروں سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔

کوئی اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللّٰه علیہ کو نیک سمجھتا ہے، کوئی مولانا مودودی رحمہ اللّٰه کی خدمات کا معترف ہے، کوئی مولانا احمد علی رحمہ اللّٰه لاہوری کی عظمت کا قائل ہے، لیکن اگر کوئی ان کی دعوت کے بارے میں اختلاف کرتا ہے تو کیا وہ کافر ہو جائے گا؟ ہر گز نہیں، محمد رسولِ عربی صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو آخری نبی ماننے والے سب لوگ دائرۂ اسلام میں ہیں۔ اس دائرے کو پھلانگنے والا بدبخت کُفر کا مرتکب ہو گا، کوئی فرد جاہل، گناہ​گار اور غلط​کار تو ہو سکتا ہے مگر کافر نہیں۔

اس سلسلے میں پلّے باندھنے کی بات یہ ہے کہ قانون ساز صِرف حُکم دیتا ہے، قانون کی وجہ یا ضرورت کی وضاحت وہ خود نہیں کرتا، بلکہ اُس کے بارے میں ہم غوروفکر کرتے ہیں، ہماری سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے اور دوسرے کو اس سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے، مگر اس اختلاف کی بناء پر کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔ حکم یہ ہے کہ جو شخص قرآن و حدیث کے مطابق نماز پڑھا رہا ہے اس کی اقتداء میں نماز ادا کرو اور اپنا اتحاد برقرار رکھو، ممکن ہے پڑھانے والے کی نماز قبول نہ ہو اور تمہاری ہو جائے۔ یا پڑھانے والے کی تو قبول ہو جائے اور تمہاری نہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم تو ظالم لوگوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اتحاد پارہ پارہ نہ ہو، ہمیں خُدا اور رسول صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری نماز امام کی نماز کے ساتھ نتھی کر دی گئی ہے اور اس کی قبول نہ ہو تو تمہاری بھی نہیں ہو گی، اللّٰه تعالیٰ ہر آدمی کی نماز الگ دیکھتا ہے۔

صحابۂ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کے دَور میں ایسے جھگڑے اور فتنے پیدا نہیں ہوئے، خارجی پیدا ہوئے، سبائی آئے، شیعہ ہوئے، مگر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں کوئی اختلاف نہ تھا، جس روز ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا شیطان نے عید منائی کہ وہ کامیاب اور کامران ہوا۔ مسلمانوں میں اتحاد کا وسیلہ ٹوٹ گیا۔ جب نماز میں اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو شیطان کی مسرّت بجا ٹھہری اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ مختلف فرقوں کے لوگ اپنے نفس کی پیروی میں بہت متشدّد ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے؟

مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللّٰه علیہ نے ”معارف السنن“ میں ایک واقعہ درج کیا ہے۔ ایک روز قاضی ابو عاصم حنفی رحمہ اللّٰه نمازِ مغرب کے لیے جا رہے تھے۔ وہ القفال شافعی رحمہ اللّٰه کی مسجد میں داخل ہو گئے، جن سے مختلف مسائل کے بارے میں ان کے مباحثے اور مناظرے ہوا کرتے تھے۔ القفال شافعی رحمۃ اللّٰه علیہ نے قاضی ابو عاصم رحمہ اللّٰه کو مسجد میں داخل ہوتے دیکھا، تو مؤذن سے کہا کہ آج اذان ترجیع کے بغیر (جس میں کلمات کو واپس دہرایا جاتا ہے) حنفی طریقے سے دی جائے، اذان کے بعد علامہ القفال شافعی نے ابو عاصم حنفی رحمہ اللّٰه سے نماز پڑھانے کی درخواست کی تو ابو عاصم حنفی رحمہ اللّٰه نے رفع یدین وغیرہ کے ساتھ شافعی طریقہ کے مطابق نماز پڑھائی۔

ان واقعات سے علمائے سلف کی دین سے محبت اور اخلاص کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ وحدتِ امّت کے کس قدر حامی تھے۔

اس قسم کا ایک واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللّٰه نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰه کے مقبرہ کے قریب فجر کی نماز پڑھی تو دُعائے قنوت (شافعی سارا سال فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے ہیں) کو احتراماً ترک کر دیا اور کہا کہ کبھی ہم اہلِ عراق کے مسلک پر بھی عمل کرتے ہیں۔

حدیثِ رسول صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے مطابق (جس کا ذکر آگے آ رہا ہے) مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے چاند دیکھ لیا مہینہ انتیس تاریخ کو ختم ہو گیا، لیکن دوسرے مسلمانوں نے چاند نہیں دیکھا، قاضی کو بھی اعتبار نہیں آیا اور اُس نے حکم دے دیا کہ روزہ رکھو تو عید کا چاند اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے باوجود وحدتِ اُمّت کی خاطر آپ کو بھی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھنا ہو گا، اس کے برعکس اگر روزہ افطار کرنے کا حکم دیا جائے تو افطار کرنا ہو گا، نبی کریم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم فرماتے ہیں:

الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ ۔ (سلسلة الأحاديث الصحيحة للالباني ج: ١، حديث ٢٢٤، ص: ٣٨٩)

جس دن دوسرے مسلمان روزہ رکھیں، تم بھی رکھو، اُس وقت روزہ کھول دو جب دوسرے افطار کریں، جس روز لوگ قربانی کریں تم بھی کرو

گویا اگر اسلامی حکومت نے روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا ہے تو روزہ رکھو خواہ تم نے چاند اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو اور اس وقت روزہ کھول دو جب دوسرے افطار کریں اور لوگوں کے ساتھ ہی قربانی کریں، چنانچہ کئی دفعہ غلط دن حج ہو گیا اللّٰه سے اُمید رکھنی چاہیے کہ وہ حج اور قربانی کو قبول کر لے گا اصل مقصد وحدتِ اُمّت اور اطاعتِ خداوندی ہے، نبی اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے اُمت کو متحد رکھنے اور انتشار سے بچانے کے لیے جماعتی حکم پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔ اجتماعی عبادتوں میں جمہور مسلمانوں کا ساتھ دینا وحدتِ امت کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

صحابۂ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے، کیونکہ انہیں اُمّت میں انتشار مطلوب نہ تھا، مثلاً بعض صحابہ رضی اللّٰه عنہم کا فتویٰ تھا کہ وضو کر لینے کے بعد بالغ عورت کو ہاتھ لگ جانے پر وضو ٹوٹ جاتا ہے خواہ وہ ماں بہن ہی کیوں نہ ہو اور نیت کیسی بھی ہو، اس طرح شرم​گاہ کو چھو لیا تو وضو جاتا رہا، جسم کے کسی حصے سے خون بہہ نکلا وضو ساقط ہو گیا حتیٰ کہ بعض اونٹ کا گوشت کھا لینے کے بعد تجدیدِ وضو کو ضروری گردانتے تھے لیکن ان کے برعکس بعض صحابہ کے خیال میں ان اعمال کے سرزد ہونے کی صورت میں وضو پر کوئی اثر نہ پڑتا تھا، جن کا خیال تھا کہ ان اعمال سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہ وضو کر لیتے تھے اور جن کا خیال اس کے برعکس تھا وہ دوبارہ وضو کو ضروری نہ سمجھتے تھے لیکن ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے تھے (آج کے دور میں ایسے امام کا بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے) کتنی پیاری بات ہے کہ اپنا مسلک نہ چھوڑو، دوسرے کے مَسلک کو نہ چھیڑو۔

حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ سفر میں پوری نماز پڑھا کرتے تھے، یعنی ظہر، عصر اور عشاء کی چار رکعات پڑھتے تھے، بعض صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنہم دوگانہ ادا کرتے تھے اگر امام چار پڑھانے والا ہوتا تو سب چار پڑھ لیتے اور اگر دوگانہ کا عقیدہ رکھنے والا امام نماز پڑھا رہا ہوتا تو چار رکعتوں کا اعتقاد رکھنے والے اس کے پیچھے نماز پڑھ لیتے، یہ اختلاف ان لوگوں کو ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے نہ روکتا تھا اور وہ اپنی نماز کو درست سمجھتے تھے۔

امام ابو داؤد روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ نے منیٰ میں چار رکعت نماز ادا کی، دوگانہ نہیں پڑھا، حالانکہ حج کے موقع پر حضرت رسول اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور خود حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہم دوگانہ پڑھتے تھے، بعد میں حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ نے چار پڑھنا شروع کر دیں، دیگر صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنہم حسبِ سابق قصر ہی کرتے رہے۔

تاہم جب حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع آیا، تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ کی اقتداء میں چار رکعتیں ہی پڑھیں، پوچھنے والے نے بظاہر اس تضاد کے بارے میں دریافت فرمایا تو حضرت عبد اللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنہ نے ارشاد فرمایا: اُمت میں اختلاف پیدا کرنا شر ہے، چار کیا؟ دو کیا؟ ان کا مسلک اپنی جگہ میرا اپنی جگہ لیکن اس اختلاف کو وجہِ انتشار بنانا درست نہیں۔

امام احمد رحمۃ اللّٰه علیہ نے اپنی مُسنَد میں نقل کیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ کے عمل سے اختلاف کے باوجود حضرت ابو ذر رضی اللّٰه عنہ نے حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ کی اقتداء میں چار رکعتیں پڑھیں، صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنہم کے تعامل کے بارے میں اصل عبارت درج ذیل ہے:

ألا ترى أن الصحابة رضي اللّٰه عنهم كان يصلي بعضهم وراء بعض وفيهم مَن يرى أنَّ مسَّ المرأة والعضو وخروج الدم من نواقض الوضوء، ومنهم مَن لا يرى ذٰلك، ومنهم مَن يتمُّ في السَّفر، ومنهم مَن يقصر؟! فلم يكن اختلافهم هٰذا وغيره ليمنعهم من الاجتماع في الصلاة وراء الإمام الواحد، والاعتداد بها، وذٰلك لعلمهم بأن التفرُّق في الدين شرٌّ من الاختلاف في بعض الآراء، ولقد بلغ الأمر ببعضهم في عدم الإعتداد بالرأي المخالف لرأي الإمام الأعظم في المجتمع الأكبر كمنى، إلى حد ترك العمل برأيه إطلاقاً في ذٰلك المجتمع؛ فراراً ممَّا قد ينتج من الشر بسبب العمل برأيه، فروى أبو داود (١/٣٠٧) أنَّ عثمان رضي اللّٰه عنه صلَّى بمنى أربعاً، فقال عبد اللّٰه بن مسعود منكراً عليه: صلَّيتُ مع النبي صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم ركعتين، ومع أبي بكر ركعتين، ومع عمر ركعتين، ومع عثمان صدراً من إمارته ثم أتمها، ثم تفرَّقت بكم الطرق؛ فلوددتُ أن لي من أربع ركعات ركعتين متقبَّلتين. ثم إن ابن مسعود صلَّى أربعاً! فقيل له: عبتَ على عثمان ثم صليتَ أربعاً؟! قال: الخلاف شرٌّ. وسنده صحيح.
وروى أحمد (٥/١٥٥) نحو هٰذا عن أبي ذرٍّ رضي اللّٰه عنهم أجمعين.
فليتأمل في هٰذا الحديث وفي الأثر المذكور أولٰئك الذين لا يزالون يتفرَّقون في صلواتهم، ولا يقتدون ببعض أئمة المساجد، وخاصة في صلاة الوتر في رمضان؛ بحجَّة كونهم على خلاف مذهبهم! وبعض أولئك الذين يدَّعون العلم بالفلك، ممَّن يصوم ويفطر وحده؛ متقدِّماً أو متأخِّراً على جماعة المسلمين؛ معتدّاً برأيه وعلمه؛ غير مبال بالخروج عنهم.
فليتأمل هٰؤلاء جميعاً فيما ذكرناه من العلم؛ لعلَّهم يجدون شفاءً لما في نفوسهم من جهل وغرور۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة للالباني ج ١ حديث ٢٢٤، صفحہ جات ٣٩١ تا ٣٩٣)
صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم بالخصوص حضرت عبد اللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنہ اور حضرت ابو ذر رضی اللّٰه عنہ کے طرز عمل پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو مختلف فقہی مسالک کا بہانہ بنا کر ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور انتشار کو ہوا دیتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم سے زیادہ دینی فہم رکھنے والا کون ہو سکتا ہے؟ ان کی عظمت کو تسلیم کرنے کے باوجود آج لوگ اس راستے پر چلنے سے اجتناب کیوں کرتے ہیں جس راہ پر چل کر انہوں نے وحدتِ امّت کو پارہ پارہ ہونے سے بچایا۔ اگر وہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے تو آج ہم فقہی مسالک کے اختلافات کو ہوا دے کر دین کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں، کاش سب لوگ اس پر غور کریں۔

اپنی اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ یہاں ایک جماعت موجود ہے، اس جماعت سے منسلک لوگ باتیں اچھی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صرف وہی حق پر ہیں، لیکن جب دوسرے مسلمانوں سے ملتے ہیں تو السلام علیکم نہیں کہتے، اگر السلام علیکم کہہ دیا جائے تو جواب میں وعلیکم کہیں گے جیسے کسی کافر کو کہا جاتا ہے، مسجد میں آتے ہیں لیکن جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے، انہیں اپنے اس طرز عمل پر خود غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ اس طرح اسلام کی خدمت کر رہے ہیں؟

اعمال کی ادائیگی میں جو اختلاف نظر آتا ہے اس کی توضیح ڈاکٹر حمید اللّٰه صاحب نے بہاولپور یونیورسٹی میں اپنے ایک خطبے کے دوران ایک واقعہ سنا کر پیش کی، ڈاکٹر صاحب مذکور کے پرائمری سکول کے ایک استاد کا کہنا تھا کہ چونکہ اللّٰه تعالیٰ کو اپنے رسول صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے ہر ہر عمل کو زندہ رکھنا تھا۔ چنانچہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کے عمل کو شیعہ اور مالکی حضرات کے ذریعے محفوظ کر دیا، رفع یدین یا اس قسم کے چھوٹے چھوٹے دیگر اعمال کو دوسرے لوگوں کے ذریعہ قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا، چونکہ مختلف لوگ مختلف اعمال کو رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے طریقوں پر ادا کر رہے ہیں، اس لیے اس کو حدیث کی غلطی نہیں کہیں گے، بلکہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے اپنی زندگی میں جس طرح عمل کر کے دکھایا جس کسی نے جس طرح دیکھا اس پر عمل پیرا ہو گیا، لہٰذا فقہی مسائل کے فروعی اختلافات کو بنیاد بنا کر اُمّتِ مسلمہ میں فساد برپا کرنا بہت بڑا جرم ہے۔

علامہ البانی فرماتے ہیں کچھ لوگ حجاز مقدّس میں رمضان کے دوران وتر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرتے اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ امام دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیتا ہے اور ایک رکعت الگ پڑھتا ہے، جب کہ ان کا طریقہ وصل ہے (یعنی تینوں ایک سلام سے پڑھتے ہیں) اس ضمن میں عوام الناس کا تو ذکر ہی کیا، بڑے بڑے علماء اور زعماء کا یہی عمل ہے۔

علامہ البانی لکھتے ہیں کہ ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے جو فرمایا ہے کہ عید باقی مسلمانوں کے ساتھ کر لو، خواہ تمہارے حساب سے اس روز ابھی روزہ ہے اور اگر اُمّت نے فیصلہ کر لیا ہے۔ قاضی نے حکم دے دیا ہے تو اپنی رائے چھوڑ کر باقی مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھو، اگرچہ تمہیں یقین ہے کہ ابھی رمضان کا چاند نظر نہیں آیا، آخر اس میں کیا مصلحت تھی؟ جواب بالکل واضح ہے رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو اُمّت میں انتشار بالکل پسند نہ تھا۔ وہ امّت کو جَسدِ واحد کی مانند دیکھنے کے آرزو مند تھے، لہٰذا مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان باتوں سے اجتناب کریں، جو اُمّت میں انتشار پھیلانے کا باعث بنتی ہیں، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کو جوڑا جائے، توڑا نہ جائے۔

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

اس سلسلہ میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰه علیہ جن کے بارے میں مُداہنت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ کسی مسئلہ کے بارے میں نرمی اختیار کریں گے۔ (سعودی حکومت کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ اُس نے ان کے فتاویٰ کو سینتیس ۳۷ جلدوں میں چھپوا کر مفت تقسیم کیا ہے) فرماتے ہیں:
ولهذا ينبغي للمأموم أن يتبع إمامه فيما يسوغ فيه الاجتهاد، فإذا قنت قنت معه، وإن ترك القنوت لم يقنت۔(فتاویٰ ابن تيمية، ج: ٢٣)
مقتدی کو چاہیے کہ جس امام کے پیچھے نماز پڑھے اس کی پیروی کرے، اگر امام قنوت پڑھتا ہے (جس طرح حنفی اور حنبلی مسالک کے لوگ وتروں میں قنوت پڑھتے ہیں) تو قنوت پڑھے اور اگر امام قنوت نہیں پڑھتا (شافعی لوگ رمضان کے آخری پندرہ دنوں میں پڑھتے ہیں، مالکی سال بھر میں ایک دن بھی وتر میں قنوت نہیں پڑھتے) اور آپ اس کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو قنوت ترک کر دیں، فساد برپا نہ کریں، کیونکہ یہ طریقۂ کار رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنہم کے زمانہ سے چلا آ رہا ہے۔

حضرت امام مالک رحمۃ اللّٰه علیہ کا مسلک ہے جسم سے خون بہہ نکلنے پر بھی وضو باقی رہے گا۔ امام شافعی رحمۃ اللّٰه علیہ کا بھی یہی مسلک ہے، البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰه اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰه علیہ کے نزدیک وضوء باقی نہیں رہے گا۔ کسی نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه سے سوال کر دیا کہ آپ کا عقیدہ ہے کہ خون بہہ نکلے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، اگر کسی کا خون بہہ نکلا اس نے صاف کر دیا، لیکن دوبارہ وضو نہیں کیا تو آپ ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے؟

امام نے فرمایا کہ سید التابعین سعید بن مسیب رحمۃ اللّٰه علیہ یا امام العصر امام مالک رحمۃ اللّٰه علیہ نماز پڑھا رہے ہوں اور میں ان کی امامت میں نماز ادا نہ کروں؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ میرا مسئلہ میرے لیے ان کا ان کے لیے، لیکن میں ان کی اقتداء میں نماز ضرور پڑھوں گا۔

بدقسمتی سے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کے لیے یہود و نصاریٰ نے ہماری صفوں میں اپنے ایجنٹ شامل کر دیے، اسماء الرجال کی کتب پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہود ونصاریٰ کے یہ ایجنٹ لمبی لمبی داڑھیاں رکھ کر ساری عمر درس دیتے رہے، حدیثیں پڑھاتے رہے، عالم اور درویش بنے رہے، لیکن یہ یہود اور نصاریٰ اسلام برباد کرتے رہے اور عمر بھر مسلمانوں میں فساد پھیلاتے رہے، بدقسمتی سے آج بھی ایسے نام نہاد علماء کی کمی نہیں ہے جو یہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور دھڑادھڑ کفر کے فتوے لگا رہے ہیں، کوئی ان سے پوچھے کہ لوگ اللّٰه تعالیٰ کی پرستش کرتے ہیں، رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، قرآن کو تسلیم کرتے ہیں، قبلہ کا احترام کرتے ہیں، تمہارے پاس انہیں اسلام سے خارج کرنے کی کیا دلیل ہے؟ خدارا اب یہ دھندے چھوڑ دو، اُمّتِ مسلمہ کو برباد نہ کرو اور جگ ہنسائی کا سبب نہ بنو۔

امام مالک رحمہ اللّٰه کا حوالہ اوپر آیا ہے، اس سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب آپ نے چالیس سال کی محنت سے مؤطا جیسی گراں قدر کتاب تالیف فرمائی جس میں اہلِ حجاز کی قوی احادیث اور مستند اقوالِ صحابہ و فتاویٰ تابعین جمع کر دیے اور اس کے بہترین فقہی ابواب قائم کیے، تو خلیفۂ وقت نے جب اس کے چند نسخے کرا کے دوسرے شہروں اور ملکوں میں بھیجنے کا ارادہ کیا تا کہ لوگ اس فقہ پر عمل کریں اور پیدا شُدہ اختلافات ختم ہو جائیں، تو سب سے پہلے امام مالک رحمہ اللّٰه ہی نے اس خیال کی مخالفت فرمائی اور فرمایا:

”امیر المومنین! آپ ایسا نہ کریں لوگوں تک بہت سی باتیں اور احادیث و روایات پہنچ چکی ہیں اور ہر جگہ کے لوگ ان میں سے کچھ کو اپنا چکے ہیں، جس سے خود ہی فقہی اختلاف رونما ہو چکا ہے اور اب اس اقدام سے مزید اختلافات پیدا ہو جائیں گے، اس لیے انہوں نے اپنے لیے جو اختیار کر لیا ہے اسی پر انہیں آپ چھوڑ دیں“ ۔

اور ایسا ہی ہوا، کسی ایک فقہ کو تمام اُمّت پر مُسلط کرنے کی یہ تجویز امام مالک رحمہ اللّٰه کے مشورہ پر خلیفۂ وقت نے خود ہی ردّ کر دی۔ (اسلام میں اختلاف کے اصول وآداب، مصنفہ ڈاکٹر طٰہٰ جابر فیاض العلوانی، مترجم ایم اختر صفحہ ۱۰۸ ، ۱۰۹)

فقہی اختلافات کے سلسلہ میں مسلک اہلِ حدیث کے متبحر عالم حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللّٰه فروعی اختلافات کی حقیقت کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں: ”یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے اگر تبدیلی ممکن نہیں تو پھر یہ اختلاف کیسے ظہور پذیر ہوا جو آج ہم دیکھتے ہیں۔ مسلمان مختلف مکاتبِ فکر کے پیرو ہیں، اسی نماز ہی کو دیکھ لیں اس میں کوئی آمین بالجہر کا قائل ہے تو کوئی آہستہ آمین کہنے پر مُصر ہے، کسی نے حالت نماز میں ہاتھ سینے پر باندھ رکھے ہیں، کسی نے زیر ناف ہاتھ باندھنا ضروری قرار دے رکھا ہے اور کسی نے سرے سے باندھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی، کچھ ایسے ہیں کہ رفع الیدین کرتے ہیں اور کچھ دوسرے نہیں کرتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سارے کام فعلی ہیں اور سنت سے ثابت ہیں، باہمی فقہی اختلافات کے باوجود کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ نماز میں ہاتھ باندھنا فرض ہے اور پھر سنت بھی اس قسم کی ہے کہ اس کے ترک سے نماز ہو جاتی ہے۔ انور شاہ صاحب نے بھی اسے تسلیم کیا ہے، اسی طرح اذان، اقامت کے مسائل ہیں، ان تمام مسائل میں اختلاف جواز کا نہیں بلکہ اختیار کا ہے اور دونوں طرح جائز ہے، کوئی اس طرح کرے اور کوئی اس طرح کرے“۔

(بحوالہ ص ۸۱ درسِ صحیح بخاری، مرتبہ منیر احمد السلفی، طبع اول ۱۹۹۲ ء، اسلام پبلشنگ ہائوس لاہور)
یہاں پر یہ ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ لندن میں مقیم عرب طلباء نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی سے اپنے رسالے ”مجلۃ الغرباء“ کے لیے نومبر ۱۹۸۶ ء میں انٹر ویو لیتے ہوئے سوال کیا کہ ”پاکستانی مسلمانوں کے اندر مختلف مذہبی تصورات پائے جاتے ہیں، جماعت اسلامی نے اختلافِ مذاہب کے مسئلہ کو کس طرح حل کیا ہے؟“ جواب میں مولانا موصوف نے دیگر تفاصیل کے علاوہ فرمایا:

”رہے مختلف مذاہب کے اعتقادی اختلافات تو نہ وہ دور کیے جا سکتے ہیں نہ ان کو دُور کرنا ضروری ہے، صرف اتنی بات کافی ہے کہ ہر گروہ اپنے عقیدے پر قائم رہے اور سب ایک دوسرے کے ساتھ رواداری برتیں، اس کے لیے ہم ملک میں مُسلسل کوشش کر رہے ہیں“۔

(بحوالہ کتاب تصریحات، صفحہ ۶۸۴ مرتبہ سلیم منصور خالد، طبع ششم مئی ۱۹۹۲ء)

رسالہ ہٰذا کی طبع اوّل کے بعد کئی اصحاب نے یہ رائے ظاہر کی کہ فروعی، فقہی اختلاف کی بات اور ہے لیکن جہاں عقیدے کا اختلاف ہو وہاں پر اسلام کے دائرے کو وسیع کرنا زیادتی کی بات ہے، ذیل میں چند حوالہ​جات خاص اسی اعتراض کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے دیے جا رہے ہیں۔

مناظرِ اسلام مولانا ثناء اللّٰه امرتسری رحمہ اللّٰه سے کسی نے پوچھا: ”کیا آپ مقلدینِ مذاہب اربعہ کو عموماً اور حنفیہ کو خصوصاً کافر کہتے ہیں اور دائرۂ اسلام سے خارج جانتے ہیں اور کیا اِن کے کفر کے متعلق آپ نے کوئی تحریر بھی شائع کی ہے؟“
مولانا نے جواب میں لکھا: ”مجھے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شرم آتی ہے کہ یہ سوال مجھ جیسے شخص سے کیوں پوچھا گیا جس نے کبھی کسی کے فتوۓٰ کفر پر دستخط نہیں کیے، کیونکہ میرا اس باب میں وہی مسلک ہے جو امام المحتاطین امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰه کا ہے:
لَا نُكَفِّرُ اَهْلَ الْقِبْلَةِ۔
فتاویٰ ثنائیہ جلد اول صفحہ ۳۶۳ (بحوالہ ہفت روزہ اہل حدیث، ۷ ستمبر ۱۹۱۷ ء)
مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلویؒ اپنی کتاب تمہید الایمان کے صفحہ ۸۰ طبع اوّل پہ یوں رقم طراز ہیں:

”ہمیں ہمارے نبی صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے اہلِ لا الہ الا اللّٰه کی تکفیر سے منع فرمایا ہے، جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے اور کلمۂ اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے“۔
فان الإسلام يعلو ولا يعلى
(بحوالہ کتاب انکشاف حق مصنفہ مفتی محمد خلیل احمد خاں برکاتی قادری بدایونی، ص: ۸۶)
مشہور حنفی ملّا علی قاریؒ شرح شفاء جلد نمبر ۲ ، ص: ۷۲۵ پر فرماتے ہیں کہ: ”مسلمینِ اہلِ تاویل اگرچہ وہ اپنی تاویلِ کتاب اللّٰه میں خطاء پر ہوں، پھر بھی ان کی تکفیر سے عند المحققین احتراز واجب ہے“۔
(بحوالہ کتاب انکشافِ حق مصنفہ مفتی محمد خلیل احمد خاں برکاتی، قادری، بدایونی، ص: ۸۳)

امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰه نے بصرہ اور کوفہ میں مناظرے کیے، عمر بھر دوسروں کی رائے کو رد کرتے رہے، لیکن فرمایا میں نے سب کو پَرکھا ہے، قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے والے جملہ لوگ مسلمان ہیں، ان میں غلطیاں کرنے والے ضرور ہیں، لیکن کوئی بھی کافر نہیں۔

چند اور حوالہ​جات ملاحظہ فرمائیں۔
منہاج الطالبین کی شرح لکھتے ہوئے الشیخ محمد الخطیب الشربینی فرماتے ہیں:
وأوّل نصّ الشافعي بتكفير القائل بخلق القرآن بأن المراد كفران النعمة لا الإخراج عن الملة، قاله البيهقي وغيره من المحققين، لإجماع السلف والخلف على الصلاة خلف المعتزلة ومناكحتهم وموارثتهم۔
مغني المحتاج الى معرفة معاني الفاظ المنهاج، ص: ١٣٥ ، ج: ٤
(شرح الشيخ محمد الخطيب الشربيني على متن منهاج الطالبين للامام ابي زكريا بن شرف النووي، دار الفكر)
ترجمہ:امام شافعی رحمہ اللّٰه کے اس قول میں کہ ”قرآن کو مخلوق کہنے والا کافر ہے“۔ کفر سے مُراد کفرانِ نعمت لی گئی ہے نہ کہ اسلام سے نکل جانا ۔ (یعنی ایسا شخص مسلم ہے، مگر اس کی یہ بات غلط ہے)۔ یہ امام بیہقی رحمہ اللّٰه اور دوسرے محققین نے لکھا ہے اور یہ تاویل اس وجہ سے کی گئی ہے کہ سلف و خلف کا اجماع ہے کہ معتزلہ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے، ان کے ساتھ رشتہ ناتہ کیا جا سکتا ہے، وہ مسلمان کی میراث لیں گے اور مسلمان ان کا وارث ہو گا۔
حضرت پیر مہر علی شاہؒ صاحب گولڑوی سے کون واقف نہیں ہے، آپ اپنے زمانہ کے اجل​ترین عالموں میں سے تھے، جھوٹے مدعیٔ نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ آپ کا علمی جہاد تاریخ کا ایک روشن باب ہے، علامہ اقبالؒ نے گول میز کانفرنس منعقدہ لندن میں شرکت کے لیے جانے سے قبل جس طرح اہم علمی مسائل کے حل کے لیے آپ سے استفادہ کیا اقبالیات کے تمام طالب علم اس سے آگاہ ہیں، پیر صاحب رحمہ اللّٰه موصوف نے مسلمانوں کی تکفیر کے ردّ میں ایک رسالہ ”اعلاءِ کلمۃ اللّٰه “ کے نام سے لکھا ہے، اس رسالہ میں سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔

”معلوم ہونا چاہیے کہ التزامِ کفر یہ ہے کہ ایک شخص نص کے مدلُول کو نص کا مدلول سمجھتے ہوئے اور حکمِ شرعی کو حکمِ شرعی جانتے ہوئے انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے میں جانتا ہوں یہ شارع علیہ السلام کا حکم ہے لیکن میں اس کو قبول نہیں کرتا، لزومِ کفر یہ ہے کہ جہالت اور نادانی کے باعث یا غلط تاویل کی وجہ سے اس پر کُفر لازم آتا ہے۔ پس التزامِ کفر سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ لزومِ کفر سے اپس پر کُفر کا فتویٰ عائد نہیں کیا جا سکتا، اسی وجہ سے فقہاء نے کلماتِ کفر ذکر کرنے کے بعد متکلم کے جہل کو عذر شمار کیا ہے، باقی جن فقہا نے یکفر لکھ دیا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے کفر والا کام کیا ہے نہ یہ کہ وہ کافر ہو گیا ہے۔ بحر الرائق میں موجود ہے کہ جامع الفصولین میں طحاوی نے ہمارے اصحابِ حنفیہ سے روایت کی ہے کہ آدمی کو ایمان سے اس چیز کا انکار نکال سکتا ہے جس کے اقرار نے اس کو ایمان میں داخل کیا تھا۔

مسلمان کے کلام کو جب تک اچھے محل پر حمل کرنا ممکن ہو یا اس کے کفر میں اختلاف ہو خواہ ضعیف روایت ہی سے کیوں نہ ہو کُفر کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیے، یہاں کُفر کے جو الفاظ ذکر کیے گئے ہیں، اُن کے تکلم سے فوراً کفر کا حکم لگانا درست نہیں، میں نے اس بات کا اپنے نفس پر التزام کیا ہے کہ ان الفاظ سے کسی مسلمان کو کافر نہ کہوں گا۔ بحر الرائق میں لکھا ہے کہ حق یہ ہے جو کچھ مجتہدین سے ثابت ہے وہ حقیقت ہے اور اُن کے سوا کسی دوسرے کے قول کی وجہ سے کُفر کا فتویٰ دینا درست نہیں۔ اسی لیے ”فتح القدیر“ باب البغاۃ میں محقق ابنِ ہمام نے لکھا ہے کہ خوارج کے بارہ میں مجتہدین سے عدم تکفیر مذکور ہے، باقی اکثر اہلِ مذہب کے کلام میں ان کی تکفیر مذکور ہے، لیکن وہ مجتہدین میں سے نہیں ہیں، لہٰذا ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ در المختار باب المرتد میں لکھا ہے کہ کفر لغت میں چھپانے کو کہتے ہیں اور شرعاً ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرنا جس کا آنحضرت صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے حکم دیا ہے۔ کفر کے الفاظ اہلِ فتویٰ نے نقل کیے ہیں، میں نے بھی اس مسئلہ میں ایک علیحدہ کتاب تالیف کی ہے لیکن میں اُن میں سے کسی لفظ سے بھی کفر کا فتویٰ دینا صحیح نہیں سمجھتا، ہاں اس صورت میں جس میں تمام مشائخ کا اتفاق ہو، بحر الرائق نے بھی کہا ہے میں نے اپنے نفس پر یہ التزام کیا ہے کہ کسی مسلمان کو ان الفاظ سے کافر نہ کہوں گا۔

بعض اہلِ کلام محدثین اور فقہا، اعمال کے لحاظ سے ہر گناہ​گار کو کافر نہیں سمجھتے مگر اعتقاداتِ بدعیہ کی وجہ سے کافر کہتے ہیں، خواہ وہ اعتقاد رکھنے والا متأوِّل ہی کیوں نہ ہو اور اس بارے میں مجتہد مخطی اور غیر مخطی میں بھی فرق نہیں کرتے بلکہ ہر بدعتی کو کافر کہتے ہیں۔ یہ قول بھی خوارج اور معتزلہ کے قریب قریب ہے، اہل بدعت اور اہل سنت میں یہی فرق ہے کہ اوّل الذکر ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں اور مؤخر الذکر غلط اعتقاد والے کو خطا کی طرف نسبت کرتے ہیں کافر نہیں کہتے ۱۰ ھ (بوارق)
علماء کو چاہیے کہ اپنی تمام​تر توجہ اور سعئی کسبِ اقتضائے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ -- امر بالمعروف ونهي عن المنكر میں صرف فرمائیں۔ نہ یہ کہ عوام کالانعام کے کافر بنانے میں ہی پورے جوش کا اظہار کرتے پھریں۔ سراج المنیر میں ہے کہ اگر ایک مسئلہ میں بہت سے وجوہ کفر کے مقتضی ہیں اور صرف ایک وجہ کُفر کو منع کرتی ہے تو مُفتی کو مسلمان پر حُسنِ ظن رکھتے ہوئے اسی ایک وجہ کی طرف میلان کرنا چاہیے۔“ (اقتباسات ختم)

حضرت گولڑوی رحمۃ اللّٰه علیہ ہی کے حوالے سے پیرزادہ محمد بہاؤ الحق قاسمی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں، میں اکثر نمازِ عصر کے وقت حضرت گولڑوی رحمہ اللّٰه کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ ایک روز حضرت کے مصاحبِ خاص مولانا محبوب عالم صاحب مرحوم نے میری طرف اشارہ کر کے حضرتؒ سے کہا: ”اب کے تمام جماعتوں نے ان کے پیچھے نماز عید ادا کی ہے“۔ تو حضرت گولڑوی رحمۃ اللّٰه علیہ نے مجھے مخاطب کر کے پنجابی زبان میں فرمایا: ”تسیں تے جامع المتفرقین نکلے“۔ میرے لیے یہ وہ اعزاز ہے جس پر میں جس قدر فخر کروں، کم ہے۔ (رسالہ اسوۂ اکابر، صفحہ ۳)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”کتھے مہر علی کتھے تیریؐ ثنا“ جیسی مقبولِ زمانہ نعت لکھنے والے کو حضور صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی امت کو ایک پلیٹ​فارم پر اکٹھا کرنے والے لوگ کتنے عزیز تھے۔ حُبِ رسول صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کا ایک تقاضا یہ بھی تو ہے!

مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں: ”اہل تحقیق کو امام بخاریؒ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی طرح وسیع الصدر ہونا چاہیے اور اقتداء کے معاملہ میں اہل بدعت کو بھی بالکل نظر انداز نہیں کرنا چاہیے“۔ ملاحظہ ہو فتاویٰ ابن تیمیہ مطبوعہ اہلِ نجد جدید، ص: ۷۴ فتاویٰ سلفیہ مولانا محمد اسماعیل السلفی اسلامک پبلشنگ ہائوس، ۲ شیش محل روڈ نزد داتا دربار لاہور۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللّٰه علیہ کا قول ہے:
وقال الحسن صل خلفه وعلیه بدعته۔ باب امامة المفتون والمبتدع صحيح البخاري مع فتح الباري، ج ٢، ص: ١٨
قوله والمبتدع أى من اعتقد شيئاً مما يخالف اهل السنة والجماعة قوله (وقال الحسن صل وعليه بدعته) وصله سعيد بن منصور۔
ترجمہ: ”تو بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ، اس کی بدعت کا وبال اس کی گردن پر ہے“۔ ابن حجر رحمۃ اللّٰه علیہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں، بدعتی وہ ہے جو اہل السنت والجماعت کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللّٰه کے اس قول کو سعید بن منصور نے ابن المبارک کی روایت سے ہشام بن حسان سے بیان کیا ہے کہ حسن بصری نے فرمایا بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ کہ اس کی بدعت کا گناہ اس کی گردن پر ہے“۔

حضرت نافع رحمۃ اللّٰه علیہ کا قول ہے:
وقال نافع: كان ابن عمر يصلي مع الخشبية والخوارج زمن ابن الزبير وهم يقتتلون فقيل له: اتصلي مع هٰؤلاء ومع هٰؤلاء وبعضهم يقتل بعضا؟ فقال: من قال: حيّ على الصلوٰة اجبته ومن قال: حيّ على الفلاح اجبته ومن قال: حيّ على قتل اخيك المسلم واخذ ماله قلت: لا، رواه سعيد ص ١٨٦، ج٢، المغني لابي محمد عبد اللّٰه بن احمد بن محمد بن قدامه، مكتبه الرياض الحديثه۔
ترجمہ: ”ابن عمر رضی اللّٰه عنہ ابن الزبیر رضی اللّٰه عنہ کے زمانے میں خارجیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے، جب کہ ابن الزبیر رضی اللّٰه عنہ کی خارجیوں کے ساتھ جنگ ہو رہی تھی، آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ ابن الزبیر رضی اللّٰه عنہ اور خوارج دونوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں، حالانکہ ان کی آپس میں جنگ ہے، آپ رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا: جو بھی حی علی الصلوٰۃ کہے گا میں اس کی آواز پر لبیک کہوں گا، جو بھی حی علی الفلاح کہے گا میں اس کے ساتھ آواز ملاؤں گا، لیکن جو کسی مسلمان بھائی کو قتل کرنے اور اس کا مال لوٹنے کے لیے پکارے گا میں اس کی بات نہیں مانوں گا“۔
جمعہ اور عید کی نمازیں ہر ایک نیک وبد کے پیچھے پڑھی جائیں گی، امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه یہ نمازیں معتزلہ کے پیچھے پڑھ لیتے تھے۔ یہی عمل ان کے زمانے کے دوسرے علماء کا تھا، حوالہ متعلقہ حسبِ ذیل ہے:
فاما الجمع والاعياد فانها تصلىّٰ خلف كل بر وفاجر وقد كان احمد يشهدها مع المعتزلة وكذٰلك العلماء الذين في عصره، (ص: ١٨٩، ج: ٢، المغني)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰه علیہ سے روایت ہے کہ جو شخص جمعہ کی نماز کسی کے پیچھے پڑھنے کے بعد دوبارہ پڑھے گا وہ بدعتی ہے، اس روایت سے ظاہر ہے کہ فاسق یا بدعتی کے پیچھے جمعہ یا عید کی نماز پڑھنے کے بعد اس کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔ اصلی عبارت حوالۂ متعلقہ کی یوں ہے:
وروي عنه انه قال من اعادها فهو مبتدع وهذا يدل بعمومه على انها لا تعاد خلف فاسق ولا مبتدع۔ (ص: ١٨٩، المغني)
حضرت عبد اللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنہ کے معمول کے متعلق روایت ہے:
وكان ابن عمر يصلي خلف الحجاج ونجدة، احدهما خارجي، والثاني افسق البرية، وكان ابن عمر يقول: الصلوٰة حسنة ما ابالي من شركني فيها۔
(ص: ٢١٣، ج: ٣، المحلي لابي محمد علي بن احمد بن سعيد بن حزم)
ترجمہ: ”ابن عمر رضی اللّٰه عنہ حجاج اور نجدہ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، ان میں سے ایک بدترین خلائق تھا اور دوسرا خارجی۔ ابن عمر رضی اللّٰه عنہ فرماتے تھے مجھے اس سے کیا غرض کہ میرے ساتھ کون شریکِ نماز ہے“۔
عبدالرزاق رحمہ اللّٰه نے سفیان ثوری رحمہ اللّٰه سے انہوں نے عقبہ رحمہ اللّٰه سے روایت کیا ہے:
وعن عبدالرزاق عن سفيان الثوري عن عقبة عن أبي وائل: انه كان يجمع مع المختار الكذاب، وعن ابي الاشعث (١) قال: ظهرت الخوارج علينا فسأل يحيیٰ بن ابي كثير، فقل يا أبا نصر، كيف تري في الصلوٰة خلف ھٰؤلاء: قال القرآن امامك صل معهم ما صلوها۔ (بحوالہ کتاب المحلہ، ص: ٢١٤ ، ج: ٤)
ترجمہ: ”ابو وائل رضی اللّٰه عنہ مختار کذاب کے پیچھے جمعہ پڑھتے تھے ابو اشعث کی روایت ہے کہ خارجی ہم پر غالب آ گئے تو میں نے یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللّٰه سے دریافت کیا، اے ابو نصر ان کے پیچھے نماز کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا تیرا امام قرآن ہے، تو ان کے پیچھے نماز پڑھ جب تک وہ نماز پڑھیں“۔
حسن بصریؒ کا قول ہے:
وعن الحسن لا تضر المومن صلاته خلف المنافق وال تنفع المنافق صلاته خلف المومن۔ (ص: ٢١٤، ج: ٤)
ترجمہ: ”مومن، منافق کے پیچھے نماز پڑھے تو اس کی نماز کا کوئی نقصان نہیں اور منافق مومن کے پیچھے پڑھے تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا“۔
علی ابن حزم رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں:
ما نعلم احدا من الصحابة رضي اللّٰه عنهم امتنع من الصلاة خلف المختار وعبيداللّٰه بن زياد والحجاج ولا فاسق افسق من ھٰؤلاء۔
(ص: ٢١٤، ج: ٤)
ترجمہ: ”ہمارے علم میں کوئی صحابیؓ بھی ایسا نہیں جس نے مختار، عبید اللّٰه بن زیاد اور حجاج کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو، حالانکہ ان سے بڑھ کر کوئی فاسق نہیں“۔
نزل الابرار من فقہ النبی المختار صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم میں ہے:
فتجوز امامة الرافضي والخارجي والمعتزلي والمقلد۔ (ص: ٧٤٢، ج: ١)
نزل الابرار من فقه النبي المختارصلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم، ص: ٩٧، ج: ١
ترجمہ: ”رافضی، خارجی، معتزلی اور مقلد کی اقتداء میں نماز جائز ہے“۔
مولانا وحید الزمان حیدر آبادی نزل الابرار میں لکھتے ہیں:
وليعلم ان هناك فرقا بين الافر والمكفر فمنا من كفر الروافض ومنا من كفر الخوارج فهم ليسوا بكافرين بل مكفرين بلسان البعض والكافر من كفره صريح ومتفق۔ (ص: ٩٧، ج: ١)
ترجمہ: ”یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ کافر اور مکفّر میں فرق ہے، ہم میں سے بعض نے روافض کی تکفیر کی ہے اور بعض نے خوارج کی، تو یہ کافر نہیں ہیں، بلکہ بعض نے ان کی تکفیر کی ہے (ان کی بعض باتوں کو کفریہ ٹھہرایا ہے) کافر وہی ہو گا جس کا انکار صاف ہو اور اس کے کفر پر اتفاق ہو“۔
مولانا وحید الزمان رحمہ اللّٰه اسی کتاب کے دوسرے مقامات پر لکھتے ہیں:
ويصلي على الملك الظالم السافك للدماء عسى اللّٰه ان يغفر له وعلى العصاة من المسلمين ولو كانوا اصحاب الكبائر والبدعات كالرفضة والخوارج والمعتزلة والجهمية۔ (ص: ١٧٤، ج: ١)
ترجمہ: ”ظالم اور خون ریز بادشاہ کا جنازہ پڑھا جائے گا، شاید اللّٰه اس کو معاف فرما دے، گناہ گار مسلمانوں کا جنازہ بھی پڑھا جائے گا اگرچہ وہ مرتکب کبیرہ ہوں یا بدعتی ہوں مثلاً روافض، خوارج اور معتزلہ“۔
ويجوز مناكحة المعتزلة والامامية والجهمية واهل البدعات لانا لانكفر احدا من اهل القبلة۔ (ص: ٣٠، ج: ٣)
ترجمہ: ”یعنی معتزلہ، امامیہ، جہمیہ اور بدعتی لوگوں سے رشتہ ناتا جائز ہے، کیونکہ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے“۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں:
ولهذا كان الصحابة يصلون خلف الحجاج والمختار بن ابي عبيد الثقفي وغيرهما الجمعة والجماعة۔ (فتاویٰ ابن تيمية، ص: ٣٤٧، ج: ٢٣)
”صحابہ رضی اللّٰه عنہم حجاج اور مختار بن ابی عبید ثقفی کے پیچھے جمعہ اور جماعت کی دیگر نمازیں پڑھ لیتے تھے“۔
وانما تصح مثل ھٰذه الصلوات خلف الأئمة اهل البدع كالرافضة ونحوهم۔ (فتاویٰ ابن تيمية، ص: ٣٥٥، ج: ٢٣)
”جمعہ اور عیدین وغیرہ کی نمازیں اہلِ بدعت مثلاً رافضی اور اُن جیسے دوسرے لوگوں کے پیچھے پڑھی جائیں گی“۔
واذا كان الامام مبتدعا فانه يصلي خلفه الجمعة وتسقط بذٰلك۔ (فتاویٰ ابن تيمية، ص: ٣٦١، ج: ٢٣)
”امام بدعتی ہو تو اس کے پیچھے جمعہ درست ہے اور وہ ادا ہو جائے گا“۔
سطورِ بالا میں ہم نے مختلف فتاویٰ کو جمع کر دیا ہے، صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ وحدتِ اُمّت کے لیے اکابرین نے کس طرح رواداری کا ثبوت دیا۔ فرقہ معتزلہ اور جہمیہ وغیرہ پرانے فرقے ہیں جو موردِ عتاب اور محلِ غضب رہے ہیں، صاحب الدر المختار نے ان کی بابت سخت الفاظ لکھے۔ نماز کے مسائل بیان کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ بدعتی ہیں۔ گیارہویں صدی ہجری میں دمشق کے علامہ محمد امین شامی نے رد المحتار لکھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد فقہ حنفی کی کوئی اور کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں (اللّٰه ان کی قبر پر انوار کی بارش کرے)۔

علامہ صاحب نے اپنی شرح میں لکھا ہے کہ اکثر متکلمین اور فقہاء نے صاحبِ درِ مختار سے اختلاف کیا ہے۔ جن لوگوں پر تند و تیز حملے کیے گئے ہیں وہ بھٹکے ہوئے ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے نماز بھی پڑھی جائے گی، ان کا جنازہ بھی پڑھایا جائے گا اور ان کی مغفرت کے لیے دعاء بھی کی جائے گی، مرنے کے بعد جائیداد کی تقسیم کے سلسلہ میں انہیں مسلمان شمار کیا جائے گا۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰه فتاویٰ میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ جہمیہ اور مرجیہ فرقوں کے لوگوں سے خلقِ قرآن کے عقیدہ کے بارے میں مناظرے کرتے رہے، ان کے عقائد کی تردید میں کتابیں لکھیں، ان کے عقائد کو کفریہ کہا۔ لیکن اُن کے مرنے کے بعد ان کی بخشش کے لیے دعاء کرتے۔

امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
ومع هذا، فال امام أحمد رحمه اللّٰه تعالي ترحم عليهم، واستغفر لهم، لعلمه بأنهم لم يبن لهم أنهم مكذبون للرسول، ولا جاحدون لما جاء به، ولكن تأولوا فأخطأوا، وقلدوا من قال لهم ذلك۔
(فتاویٰ ابن تیمیۃ رحمہ اللّٰه، ص: ٣٤٨ - ٣٤٩، ج: ٢٣) وحقيقة الأمر في ذلك : أن القول قد يكون كفراً، فيطلق القول بتكفير صاحبه، ويقال من قال كذا فهو كافر، لكن الشخص المعين الذي قاله لا يحكم بكفره، حتى تقوم عليه الحجة التي يكفر تاركها۔ (ص: ٣٤٥، ج: ٢٣)
وهكذا الأقوال التي يكفر قائلها قد يكون الرجل لم تبلغه النصوص الموجبة لمعرفة الحق، وقد تكون عنده ولم تثب عنده،أو لم يتمكن من فهمها،وقد يكون قد عرض له شبهات يعذره ال لّٰه بها، فمن كان من المؤمنين مجتهداً في طلب الحق وأخطأ، ف ان ال لّٰه يغفر له خطأه كائنا ما كان سواء كان في المسائل النظرية، أو العملية . هذا الذي عليه أصحاب النبي صلى ال لّٰه عليه وسلم، وجماهير أئمة ال اسلام،وما قسموا المسائل ا لى مسائل أصول يكفر ب انكارها، ومسائل فروع لا يكفر ب انكارها. (ج: ۲۳ ، ص: ۳۴۶)
امام صاحب فرماتے ہیں کہ ہماری نظر میں اُن کی باتیں کفریہ ہیں، مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ یہ باتیں دین کے خلاف ہیں، تاہم انہوں نے تحقیق کے بعد جو کچھ سمجھا کہہ دیا۔ حالانکہ وہ نہ نبی کے منکر تھے اور نہ دین کے، شاید اللّٰه ان کا عذر قبول کر لے۔ اللّٰه کے ہاں رحمت کی کمی نہیں ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کسی کو روکنے کے لیے جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا، تو یہ اس کی نادانی ہے کیونکہ رسول اللّٰه کے کسی امتی کے لیے جنت کے دروازے بند نہیں ہوتے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰه نے شیعیت کے ردّ میں ایک کتاب تحریر کی ہے، اس کا نام منهاج السنة النبويه في نقض كلام الشيعة و القدرية ہے، اس کتاب کے بارے میں یہ کہہ دینا کافی ہے کہ اس موضوع پر یہ پہلی اور آخری کتاب ہے، بعد میں آنے والوں کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اسی سے خوشہ چینی کر کے کام چلاتے ہیں، امام صاحب جب بحث کے دوران اس بات پر پہنچے کہ خوارج حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ ، حضرت علی رضی اللّٰه عنہ، حضرت طلحہ رضی اللّٰه عنہ، حضرت زبیر رضی اللّٰه عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللّٰه عنہا بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہ اور حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ کے علاوہ سب کو کافر کہتے ہیں، جب کہ شیعہ ان دونوں کو بھی کافر سمجھتے ہیں، باوجود ردّ کرنے کے امام صاحب نے پوری فصل لکھی جس میں فرمایا:
وقالوا هذا هو القول المعروف عن الصحابة والتابعين لهم ب احسان وأئمة الدين ا نهم لا يكفرون ولا يفسقون ولا يؤثمون أحدا من المجتهدين المخطئين لا في مسألة عملية ولا علمية قالوا والفرق بين مسائل الأصول والفروع ا نما هو من أقوال أهل البدع من أهل الكلام من المعتزلة والجهمية ومن سلك سبيلهم۔ (منهاج السنة، ج: ٣، ص: ٢٠،٢١) وأهل السنة لا يبتدعون قولا ولا يكفرون من اجتهد فأخطأ وا ن كان مخالفا لهم مكفرا لهم مستحلا لدمائهم كما لم تكفر الصحابة الخوارج مع تكفيرهم لعثمان وعلي ومن والاهما واستحلاهم لدماء المسلمين المخالفين لهم۔ (منهاج السنة، ج: ٣، ص: ٢٣) المجتهد المستدل من ا مام وحاكم وعالم وناظر ومناظر ومف وغير ذلك ا ذا اجتهد واستدل فاتقى اللّٰه ما استطاع كان هذا هو الذي كلفه اللّٰه ا ياه وهو مطيع لله مستحق للثواب ا ذا اتقاه ما استطاع ولا يعاقبه اللّٰه البتة۔ (منهاج السنة، ج: ٣، ص: ٢٧)
”مسئلہ اصول کا ہو یا فروع کا فقہ کا ہو خواہ عقائد کا اگر کسی نے مسئلہ کو سمجھنے کی جدوجہد کی تو گویا اس نے دین کو سمجھنے کی سعئی کی، لہٰذا وہ بھی اجر ثواب کا مستحق ٹھہرے گا خواہ وہ خارجی ہو یا شیعہ ان میں نہ کوئی کافر ہے نہ مُرتد“۔

علامہ عبدالعلیؒ اصولِ فقہ حنفیہ کی کتاب مسلم الثبوت کی شرح فواتح الرحموت میں لکھتے ہیں:
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت۔ ج: ٢، ص: ٢٤٣، ٢٤٤
وفی البحر الرائق حقق بتفصیل بلیغ ان تکفیر الروافض لیس مذھبا لأئمتنا المتقدمین وانما ظھر فی اقوال المتأخرین فالوجہ فی عدم تکفیرھم ان تدینھم اوقع فیما اوقع فھم انما وقعوا فیما وقعوا زعما منھم انہ دین مُحمَّدی وان کان زعمھم باطلا بیقین غیر مشوب باحتمال ریب فیھم وما کذبوا محمدا صلی اللّٰه علیہ وسلم فی زعمھم فھم غیر ملتزمین الکفر والتزام الکفر کفر دون لزومہ اما انکارھم للمجمع علیہ وان کان انکار جلی ونشاء من سفاھۃ لکن لیس انکارا مع اعترافھم انہ مجمع علیہ بل ینکرون کونہ کذٰلک لشبھۃ نشأت لھم وان کان باطلۃ فی نفس الأمر وھی زعمھم ان امیر المؤمنین علیا انما بایع تقیۃ وخوفا وان کان ھٰذا الزعم منھم باطلا مما یضحک بہ الصبیان وامیر المؤمنین علی بریٔ من نحو ھذا التقیۃ الشنیعۃ اوللّٰه ھو بریٔ لا ریب فی انہ بریٔ فھٰذہ الشبھۃ وان کان شبھۃ شیطانیۃ وانما جرأھم علیھا الوساوس الشیطانیۃ لکنھا مانعۃ عن التکفیر وانما الکفر انکار المجمع مع اعترافہ انہ مجمع علیہ من غیر تاویل وھل ھذا الاکما اذا انکر المنص وص بالنص القطعی بت أویل باطل وھو لیس کفرا کذا ھٰذا
فرماتے ہیں کہ کوئی حدیث کو درست تسلیم کرتا ہے مگر رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کے بارہ میں کہتا ہے کہ معاذ اللّٰه وہ جھوٹے ہیں تو وہ کافر ہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ میں نہیں مانتا کہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے واقعی ایسا فرمایا تھا، تو وہ راوی یا روایت کو رد کر رہا ہوتا ہے رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو نہیں، ہاں اگر رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم موجود ہوں اور کوئی یہ بات کہے کہ میں نہیں مانتا تو وہ کافر ہے، چونکہ بہت سی روایات کمزور اور ضعیف ہیں، لہٰذا ان کو ردّ کرنے والا کافر نہیں ٹھہرے گا۔ ہم خود بعض فرقوں کی بیان کردہ حدیثوں کی صحت کا انکار کرتے ہیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی حدیث کی صحت کے بارے میں شبہ کا اظہار کرنے پر کوئی کافر نہیں ہوتا۔ جب تک وہ دیدہ دلیری سے یہ نہ کہہ دے کہ ہاں میں مانتا ہوں کہ قرآن میں یہ لکھا ہے لیکن میں نہیں مانتا یا حدیث کے بارے میں ایسے الفاظ ادا کرے لیکن اگر کوئی حدیث کی صحت کے بارہ میں شک کرتا ہے یا کوئی شخص کسی آیت کے مفہوم کے بارے میں اختلاف کرتا ہے تو اس کی تصحیح کرنا اور سمجھانا بہتر ہو گا نہ کہ اسے دائرۂِ اسلام سے ہی خارج کر دیا جائے۔

امام غزالی رحمہ اللّٰه کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ فلسفی، دانشور اور علمِ کلام کے ماہر کے طور پر معروف ہیں۔ ان کی کتاب احیاء علوم الدین، اہلِ علم میں بے حد مقبول ہے۔ امام صاحب کے دور میں بھی تکفیر کا طوفان برپا تھا۔ آج کی طرح اس وقت بھی بات بات پر کفر کے فتوے صادر ہوتے تھے۔ مخالفین کا جینا دوبھر تھا۔ یہاں تک کہ ایک معتزلی عالم ۲۵ سال تک اپنے گھر سے نہ نکل سکے، ایسے وقت میں امام صاحب نے نعرۂِ حق بلند کیا اور مشہور رسالہ ”التفرقه بين الاسلام والزندقه“ تحریر کیا، نو سو سال پہلے لکھی جانے والی اس موضوع پر یہ پہلی تحریر ہے۔

امام غزالی رحمہ اللّٰه کی اس علمی واصلاحی کوشش کی، اگرچہ ابتداء میں بہت مخالفت ہوئی، لیکن بقول علامہ شبلی رحمہ اللّٰه بالآخر یہ علمِ کلام کا مسئلہ بن گیا کہ اہلِ قبلہ جس قدر ہیں سب مسلمان ہیں، چنانچہ علمِ کلام کی تمام کتابوں کا خاتمہ اسی مسئلہ پر ہوتا ہے رسالہ ”التفرقه بين الاسلام والزندقه“ کا خلاصہ مؤرخ اسلام علامہ شبلی نے اپنی کتاب ”الغزالي“ میں نقل کیا ہے اس خلاصے کو جزءاً ضمیمے کے طور پر کتاب ہٰذا میں شامل کیا جا رہا ہے۔

اب شاہ ولی اللّٰه کا ذکر ہو جائے کِس کِس کے حوالے دیں جن لوگوں کو اللّٰه تعالیٰ نے بصیرت کے نور اور عقل سے نوازا ہے وہ چیختے رہے مگر جس طرح نقارخانے میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا، معاملہ جوں کا توں رہا، پیٹ​پرست ملّائوں نے لوگوں کا کچھ نہیں بننے دیا نہ بننے دیں گے۔

؂ میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گا
مسائلِ نظری میں اُلجھ گیا ہے خطیب
ہمارا خطیب امت کو ان باتوں میں اُلجھا کر لے ڈوبا جن سے اسلام کو تو کوئی نفع نہیں پہنچا آپس میں محاذ آرائیوں کی وجہ سے ہماری حکومتیں برباد ہو گئیں۔ کافروں کا غلبہ ہو گیا لیکن ہمارے جھگڑے ختم نہ ہوئے، یہ بدقسمتی ہے کہ ”علم و دیانت کی کمی اور اغراض و اہواء کی زیادتی“ کے شکار فتویٰ​فروش ملّاؤں نے مسلمانوں کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ بہر حال بات ہو رہی تھی شاہ ولی اللّٰه رحمۃ اللّٰه علیہ کی تو سنو! آپ اہلِ حدیث کہلاتے ہیں وہ دیوبندی ہیں، آپ کے جدِّ امجد تو شاہ ولی اللّٰه رحمہ اللّٰه ہی ہیں، اس ملک میں سب سے پہلے یہی شخص ہیں جنہوں نے حدیث کو نمایاں کیا۔ ہر بات کو واضح کیا، ان کی کتاب حجة اللّٰه البالغه کو تو معجزہ سمجھیں۔ جنہوں نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا انہیں کیا بتائیں واقعی اللّٰه تعالیٰ نے ان کی زبان سے حجت تمام کر دی۔ ایک ایک مسئلہ کا فلسفہ بتایا، نواب صدیق الحسن رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں کہ بارہ صدیوں تک لوگ حدیثوں کی شرحیں لکھتے رہے، مگر فلفسۂِ شریعت کہ حضور صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے یہ حکم دیا تو کیوں دیا؟ یہ شاہ ولی اللّٰه رحمہ اللّٰه کے علاوہ کوئی بیان نہ کر سکا۔

اس کتاب میں وضو، نماز سے لے کر پوری شریعت کو کھول کر بیان کیا، اس میں بتایا گیا کہ خدا کے دین میں کوئی بات زبردستی داخل نہیں کی گئی، ہر شے کے اندر فلسفہ موجود ہے۔ شاہ صاحب رحمہ اللّٰه نے کتاب مذکورہ میں ایک باب بعنوان ”اسباب اختلاف الفقهاء“ قائم کیا ہے، اس میں لکھتے ہیں:
ومنها أن أكثر صور الاختلاف بين الفقهاء لا سيما في المسائل التي ظهر فيها أقوال الصحابة في الجانبين كتكبيرات التشريق ، وتكبيرات العيدين ونكاح المحرم وتشهد ابن عباس وابن مسعود ، وال اخفاء بالبسملة وبآمين ، وال اشفاع وال ايتار في ال اقامة ونحو ذلك ، ا نما هو في ترجيح أحد القولين ، وكان السلف لا يختلفون في أصل المشروعية ، وا نما كان خلافهم في أولى الأمرين : وقد كان في الصحابة والتابعين ومن بعدهم من يقرأ البسملة ومنهم من لا يقرؤها ومنهم من يجهر بها ومنهم من لا يجهر بها وكان منهم من يقن في الفجر ، ومنهم من لا يقن في الفجر ، ومنهم من يتوضأ من الحجامة والرعاف والقيء ، ومنهم من لا يتوضأ من ذلك ، ومنهم من يتوضأ من مس الذكر ومس النساء بشهوة ، ومنهم من لا يتوضأ من ذلك ، ومنهم من يتوضأ مما مسته النار ، ومنهم من لا يتوضأ من ذلك ، ومنهم من يتوضأ من أكل لحم ال ابل ، ومنهم من لا يتوضأ من ذلك . ومع هذا فكان بعضهم يصلي خلف بعض مثل ما كان أبو حنيفة أو أصحابه والشافعي وغيرهم رضي ال لّٰه عنهم يصلون خلف أئمة المدينة من المالكية وغيرهم وا ن كانوا لا يقرؤون البسملة لا سراً ولا جهراً وصلى الرشيد ا ماما وقد احتجم ، فصلى ال امام أبو يوسف خلفه ولم يعد وكان افتاه ال امام بانه لا وضوء عليه وكان الامام أحمد بن حنبل يرى الوضوء من الرعاف والحجامة فقيل له : ف ان كان ال امام قد خرج منه الدم ، ولم يتوضأ هل تصلي خلفه ؟ فقال : كيف لا أصلي خلف ال امام مالك وسعيد بن المسيب. ويروي أن أبا يوسف ومحمداً كانا يكبران في العيدين تكبير ابن عباس لأن هارون الرشيد كان يحب تكبير جده.
(ج: ١٣، حجة اللّٰه البالغه، جز اول، ص: ١٥٨، ١٥٩)
اس کے ذیل میں لکھتے ہیں مثلاً کوئی عید کی سات اور پانچ تکبیریں کہتا ہے کوئی حنفی تین بتاتا ہے کوئی وتروں میں قنوت پڑھتا ہے کوئی نہیں پڑھتا، کوئی بسم اللّٰه اونچی آواز سے کہتا ہے کوئی اونچی آواز سے نہیں کہتا، وتر کوئی جوڑ کر پڑھتا ہے کوئی الگ۔

شاہ صاحب رحمہ اللّٰه ان سب کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنہم اور تابعین کے زمانے سے یہ باتیں چلی آ رہی ہیں اور کسی نے نہیں کہا کہ یہ جائز ہے اور یہ ناجائز، سارے گروہ متفق تھے کہ سب باتیں جائز ہیں، ایک عمل ٹھیک ہے لیکن یہ ذرا زیادہ اچھا ہے، یہ حضور صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے زیادہ عمل کیا اس لیے زیادہ اچھا ہے وہ اختلاف ضرور کرتے ہیں لیکن سلف میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ عمل سرے سے موجود ہی نہ تھا، وہ کہتے تھے کہ دونوں عمل موجود تھے ہم سات اور پانچ تکبیریں کہتے ہیں، بسم اللّٰه! اگر کوئی حنفی امام تین تکبیروں سے عید پڑھا دے تو دُکھ کس بات کا جب کہ ابن عباس رضی اللّٰه عنہما کی آسمان کے سورج کی طرح روشن روایت موجود ہے کہ جب وہ کوفہ میں حاکم تھے تو حنفیوں کی طرح تین تکبیروں سے عید پڑھاتے تھے، ابن حزمؒ فرماتے ہیں جس طرح سورج میں کوئی شک نہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے۔

شاہ ولی اللّٰه رحمہ اللّٰه کا ذکر چھڑا ہے تو یہ بیان کرنا مناسب ہو گا اور موضوع زیرِ بحث سے متعلق ہو گا کہ اٹھارہویں صدی میں جب ہندوستان کی مسلم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو رہی تھی، تو یہاں شیعہ سُنّی چپقلش اور محاذ آرائی پورے زوروں پر تھی، دونوں فرقے ایک دوسرے کو واجب القتل سمجھتے تھے، ان میں بلوے عام تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ معتدل مزاج لوگوں کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہو گیا تھا، مثلاً شاہ ولی اللّٰه رحمہ اللّٰه نے جب ایک انتہاپسند سُنّی کے اصرار کے باوجود شیعوں کو کافر کہنے سے انکار کر دیا تو وہ خاصا برہم ہوا اور کہنے لگا یہ تو شیعہ ہے۔ (بحوالہ کتاب رودِ کوثر مصنفہ ڈاکٹر شیخ محمد اکرام)

تکفیرباز عالموں کو سوچنا چاہیے کہ وہ امت کو لڑا لڑا کر کیوں ہلاک کر رہے ہیں، قرآنِ مجید تو ایک بات لے کر آیا جو آیۂ کریمہ شروع خطبہ میں پڑھی کہ اللّٰه کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔ مسائل ضرور سمجھائیں، پیار اور محبت سے درس دیں، وعظ کریں، مگر امت مسلمہ کو برباد نہ کریں، یہ جھگڑے ہمیشہ سے موجود تھے، مگر سب لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔

اس سلسلہ میں ایک اور حوالہ پیشِ خدمت ہے، قاضی ابو یوسف رحمہ اللّٰه عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں چیف جسٹس تھے، ہارون الرشید نے نماز پڑھائی (اس دور میں خلیفہ نماز پڑھاتے تھے، آج کل کی طرح نہیں کہ امامت بھی نہیں کراتے) نماز اس حالت میں پڑھائی کہ اس نے وضو کے بعد سینگیاں لگوائیں، خون نکلوایا وضو نہیں کیا، قاضی صاحب کے مطابق وضو ٹوٹ گیا تھا، لیکن قاضی ابو یوسفؒ نے خلیفہ کی اقتدا میں نماز ادا کی اور بعد میں اسے دہرایا نہیں، ہارون الرشید نے اس لیے ایسا کیا کہ امام مالکؒ نے یہ فتویٰ دے رکھا تھا کہ اس طرح وضو نہیں ٹوٹتا، اس لیے اس نے اس پر عمل کیا۔ قاضی صاحب رحمہ اللّٰه بھی چپ رہے کہ ہمارے مسلک کے بارہ میں کوئی وحی تو نازل نہیں ہوئی کہ ہمارا مسلک ہی درست ہے، دوسرا جو بہتر سمجھتا ہے اس پر عمل کرے۔

امام ابو یوسف رحمہ اللّٰه اور امام محمد رحمہ اللّٰه دونوں امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰه کے شاگرد تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ عیدین میں تین زائد تکبیریں ہیں، مگر جب نماز پڑھاتے تو سات اور پانچ تکبیریں کہتے، کیونکہ خلیفہ عباسی تھا اور وہ اپنے دادا کے طریق کا پیرو کار تھا۔ اس لیے کہ ہارون الرشید کو اپنے دادا کا طریقہ پسند تھا، اس پر ان دونوں اماموں نے کہا کہ اس بات پر شور مچانے کا فائدہ؟ اگر خلیفہ اسی پر خوش ہے تو تسلیم! آخر یہ طریقہ بھی تو موجود رہا ہے۔

ان مثالوں سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے (خدا کرے کہ بات واضح ہو گئی ہو، میرے اور آپ کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے) کہ امت مسلمہ کا دائرہ بہت وسیع ہے، حضور صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کا پرچم مشرق تا مغرب لہرا رہا ہے، کلمہ گو امت موجود ہے، کسی بستی میں بھی جائیں تو فراخ​دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے مسلمان بھائیوں کی بستی سمجھیں۔ سوڈان جائیں، نائجیریا جائیں، دوسرے علاقوں میں جائیں، مالکی حضرات کو دیکھیں، ہاتھ کھلے چھوڑ کر نماز ادا کرتے ہیں، رفع یدین نہیں کرتے کوئی برا نہیں مناتا، آپ انتظار کریں گے کہ سلام دونوں طرف پھیریں گے، مگر وہ صرف ایک بار السلام علیکم کہہ کر نماز ختم کر دیں گے۔

ایسی صورتِ حال دیکھ کر آپ پریشان نہ ہوں، دین اسلام میں بڑی وسعت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تمام فروعی مسائل کو بھلا کر تمام مسالک کا احترام کریں۔ جب تک کوئی فرد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو اپنا ہادی اور آخری نبی مان رہا ہے وہ آپ کا بھائی ہے۔ آپ کے خیال میں اگر کوئی فرد راہِ راست سے بھٹکا ہوا ہے یا اس کے مسئلے کو آپ غلط تصور کرتے ہیں تو پیار محبت سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کریں، ہر فرقہ اپنے عقائد اور فقہ کی تدوین کر چکا ہے، کوئی ایک آدمی تو اپنا مسلک چھوڑ کر دوسرے مسلک کے گروہ میں شمولیت کر سکتا ہے، تمام کا تمام فرقہ نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وحدتِ امت کی خاطر ہم ایک دوسرے کی مساجد میں مل کر نماز ادا کریں، جنازوں میں شرکت کریں، آپس میں رشتے ناتے کریں، تا کہ بُعد دُور ہو اور امتِ مسلمہ ایک جسدِ واحد بن جائے، اسی میں ہم سب کا بھلا ہے۔ یہی اسلام کا پیغام ہے۔ بصورتِ دیگر دُنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

مباحثوں اور مناظروں کا طریقہ تشحیذِ ذہن اور تحقیقِ مسائل کے لیے تو مفید ہو سکتا ہے لیکن مذہبی مناظروں کا جو طریقِ کار اپنایا جاتا ہے وہ نامناسب ہے، کیونکہ ایک دوسرے کو لعن طعن کا نشانہ بنایا جاتا ہے، درشتی کا لہجہ اختیار کیا جاتا ہے اور بعض اوقات دنگا فساد ہو جاتا ہے، جس میں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور ہمیشہ کے لیے عداوت پیدا ہوتی ہے اور آئندہ اس منافرت و عداوت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، کچھ لوگوں نے اس طریق کار کو حمایتِ مذہب اور مدافعتِ اسلام کا نام دیا ہے، مگر در حقیقت اس سے خلقِ خدا تباہ ہوتی ہے۔ جو مذہبی پیشوا دوسرے کی اصلاح کا تمنائی ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ مخالفت کو نرمی سے سمجھائے اور اسے نمود و نمائش اور اپنی برتری جتانے کی خاطر وجہِ فساد بنانے کی کوشش نہ کرے۔ مشكوٰة شریف میں صحیح​ترین حدیث ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد نے ایک خطاکار کے متعلق کہا ”کہ خُدا کی قسم تو نہیں بخشا جائے گا“، اس خود بینی کی بناء پر اس کی تمام نیکیاں برباد ہو گئیں اور اُسے دوزخ میں ٹھونس دیا گیا، اس شخص نے دوسرے کو دوزخ کی وعید دے کر خود دوزخ خرید لی، جو لوگ کُفر کے فتوے صادر کرتے ہیں اُن کو ان باتوں پر غور کرنا چاہیے۔ حدیث شریف مذکور کی اصل عبارت ذیل میں دی جا رہی ہے۔

وعن أبي هريرة رضي اللّٰه عنه قال : قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم : ان رجلين كانا في بني اسرائيل متحابين أحدهما مجتهد فى العبادة والآخر يقول : مذنب فجعل يقول : أقصر عما أنت فيه فيقول خلني وربي حتى وجده يوماً على ذنب استعظمه فقال : أقصر فقال : خلني وربي أبعث علي رقيبا ؟ فقال : واللّٰه لا يغفر اللّٰه لك أبداً ولا يدخلك الجنة فبعث اللّٰه اليهما ملكا فقبض أرواحهما فاجتمعا عنده فقال للمذنب : أدخل الجنة برحمتي وقال للآخر : أتستطيع أن تحظر على عبدي رحمتي ؟ فقال : لا يا رب قال : اذهبوا به الى النار . رواه أحمد

خوفِ طوالت سے ہم مزید حوالہ​جات درج نہیں کر رہے، جن لوگوں کو اللّٰه نے بصیرت دی ہے وہ لکھتے آرہے ہیں، ببانگِ دہل کہتے آرہے ہیں کہ جو لوگ اللّٰه کو مانتے ہیں، رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، قرآن کو کتاب ہدایت تسلیم کرتے ہیں، قبلہ رُخ ہو کر نماز پڑھتے ہیں، مسلمان ہیں فروعی اختلاف کی بناء پر کسی کو فوراً کافر قرار دینا بہت بڑا جرم ہے ایسے لوگوں کو اللّٰه سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ اُن کے اس قسم کے فتووں سے خود ان کی اپنی نیکیاں برباد ہو سکتی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے ادارے بنائے جائیں جہاں سے طالب علم کھلے ذہن لے کر نکلیں، وہ فسادی لوگوں کے آلۂ کار نہ بنیں، اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو دینی ادارے فساد کے اڈے بنے رہیں گے۔

آج دنیا بھر کی طاغوتی قوتیں اسلام کے خلاف محاذ آرا ہیں۔ کئی خطوں میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے، خونِ مسلم کی ارزانی پر ہر آنکھ اشکبار ہے، ایسی صورت میں مسلمانوں کا اتحاد وقت کی پکار ہے، المیہ یہ ہے کہ مسلمان کفار کی فریب​کاریوں کا شکار ہو کر آپس میں برسرِ پیکار ہیں، یوں دانستہ یا نادانستہ طور پر کفار کے عزائم کی تکمیل ہو رہی ہے، تبلیغی مساعی بے ثمر ثابت ہو رہی ہے، خدارا ہوش میں آئیں، فرقہ بندی کر کے مسلمان امت کو کمزور نہ کریں، جو بھی کلمہ گو ہے اس کا احترام کریں۔
ومَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغ۔
اوپر جائیں

تلخیص واقتباس
از
رسالہ التفرقة بين الاسلام والزندقة
مصنفہ: امام غزالی رحمۃ اللّٰه علیہ
منقول از کتاب ”الغزالی“
مصنفہ: مولانا شبلی نعمانیؒ
شائع کردہ:
مدینہ پبلشنگ کمپنی
بند روڈ کراچی
(صفحہ ۱۳۷ تا ۱۹۰)

امام غزالیؒ نے سب سے بڑا کام یہ کیا کہ نصوص شرعیہ کی تاویل و تفسیر کے لیے اصول و قواعد منضبط کئے اور خاص اس بحث پر ایک مستقل رسالہ لکھا جس کا نام التفرقة بين الاسلام والزندقة ہے، چونکہ یہ رسالہ نہایت مفید اور علمِ کلام کے سلسلہ میں نہایت مہتمم بالشان چیز ہے اس لیے ہم اس کا خلاصہ اس مقام پر درج کرتے ہیں۔
التفرقة بين الاسلام والزندقة
یہ اس عہد کی تصنیف ہے کہ امام صاحب اشعری کی تقلید سے آزاد ہو چکے ہیں اور احیاء العلوم اشاعت پا چکی ہے اور چونکہ اس کتاب میں بعض جگہ اشعریوں کے مخالف خیالات پائے جاتے ہیں اشاعرہ میں نہایت ناراضی پھیلی ہوئی ہے اور امام صاحب کی تضلیل اور تکفیر کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ یہ حالات دیکھ کر امام صاحب کے ایک مخلص دوست کا دل جلتا ہے اور امام صاحب کو تمام واقعات کی اطلاع دیتا ہے، امام صاحب اس کو جواب میں لکھتے ہیں یہی جواب التفرقة بين الاسلام والزندقة کے نام سے شہرت پاتا ہے۔

دیباچہ میں لکھتے ہیں:
برادر شفیق! حاسدین کا گروہ جو میری بعض تصنیفات (متعلق باسرار دین) پر نکتہ چینی کر رہا ہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ تصنیفات قدمائے اسلام اور مشائخ اہل کلام کے خلاف ہیں اور یہ کہ اشعری کے عقیدے سے بال برابر بھی ہٹنا کفر ہے۔ اس پر جو تم کو صدمہ ہوتا ہے اور تمہارا دل جلتا ہے اس سے واقف ہوں، لیکن عزیز من! تم کو صبر کرنا چاہیے، جب رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم مطاعن سے نہ بچ سکے تو میری کیا ہستی ہے جس شخص کا یہ خیال ہے کہ اشاعرہ یا معتزلہ یا حنبلیہ یا اور دیگر فرقوں کی مخالفت کفر ہے تو سمجھ لو کہ وہ اندھا مقلّد ہے۔ اس کی اصلاح کی کوشش میں اپنے اوقات نہ ضائع کرو، ”جو شخص اشعری کی مخالفت کو کُفر خیال کرتا ہے اور اس بناء پر علامہ باقلانی کو کافر کہتا ہے۔ اس سے پوچھنا چاہیے کہ اشعری اور باقلانی اگر باہم مخالف ہیں تو باقلانی کے کُفر کو اشعری کے کُفر پر کیوں ترجیح ہے، اس کے برعکس کیوں نہ ہوا۔ اور اگر باقلانی کی مخالفت جائز ہے تو کرابیسی اور قلانسی کی مخالفت کیوں نہیں جائز ہے، اگر وہ شخص یہ کہے کہ معتزلہ کا یہ عقیدہ عقل میں نہیں آ سکتا کہ خُدا کی ذات ہی تمام صفات کی بجائے کافی ہے تو اس سے پوچھنا چاہیے کہ اشعری کا یہ عقیدہ کیونکر خیال میں آ سکتا ہے کہ کلا مِ الٰہی میں کثرت نہیں اور پھر وہ امر بھی ہے اور نہی بھی۔ خبر بھی ہے اور استخبار بھی، قرآن بھی ہے اور انجیل بھی، تورات بھی ہے اور زبور بھی۔

اگر تم انصاف کرو تو معلوم ہو گا کہ جو شخص حق کو کسی شخصِ خاص میں محدود سمجھتا ہے وہ کُفر کے خود قریب ہے، کیونکہ اُس نے اِس شخص کو رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی طرح معصوم قرار دیا۔ غالباً تم کو کُفر کے معیار کے جاننے کی خواہش ہو گی تو میں ایک قاعدہ کلیہ بتاتا ہوں کہ کُفر کے معنی صرف یہ ہیں کہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی تکذیب کی جائے، اس چیز میں جو ان پر خُدا کی طرف سے آئی۔ لیکن اِس میں یہ دشواری پیش آئے گی کہ مسلمانوں میں سے ہر فرقہ دوسرے فرقہ کی نسبت یہی الزام لگاتا ہے۔ اشعری، معتزلہ کو اِس لیے کافر کہتے ہیں کہ معتزلہ احادیث رؤیت کو تسلیم نہیں کرتے اور اس طرح رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں۔ معتزلہ اس لیے اشعری کی تکفیر کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک صفاتِ الٰہی کی کثرت کا قائل ہونا توحیدِ باری کے خلاف ہے اور رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی تکذیب ہے اس مشکل کو حل کرنے کے لیے تم کو تصدیق و تکذیب کی حقیقت بتاتا ہوں۔

تصدیق کے یہ معنی ہیں کہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے جس چیز کے وجود کی خبر دی ہے اِس کے وجود کو تسلیم کیا جائے لیکن وجود کے پانچ مدارج ہیں اور انہی مدارج سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ہر فرقہ دوسرے فرقہ کی تکذیب کرتا ہے۔

اوپر جائیں


وجود کے مراتبِ خمسہ کی تفصیل
۱۔ وجودِ ذاتی: یعنی وجودِ خارجی۔

۲۔ وجودِ حِسّی: یعنی صرف حاسہ میں موجود ہونا مثلاً خواب میں ہم جن اشیاء کو دیکھتے ہیں ان کا وجود صِرف ہمارے حاسہ میں ہوتا ہے، یا جس طرح بیماروں کو جاگتے کی حالت میں خیالی صورتیں نظر آتی ہیں۔ یا شعلۂ جوّالہ کا دائرہ جو درحقیقت دائرہ نہیں ہم کو دائرہ نظر آتا ہے۔

۳۔ وجودِ خیالی: مثلاً زید کو ہم نے دیکھا پھر آنکھیں بند کر لیں۔ تو زید کی صورت جو اب ہماری آنکھوں میں پھرتی ہے یہ وجودِ خیالی ہے۔

۴۔ وجودِ عقلی: یعنی کسی شئے کی اصل حقیقت مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ یہ چیز ہمارے ہاتھ میں ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہماری قدرت اور اختیار میں ہے تو قدرت اور اختیار ہاتھ کا وجودِ عقلی ہے۔

۵۔ وجودِ شبہی: یعنی وہ شے خود موجود نہیں لیکن اس کے مشابہ ایک چیز موجود ہے۔

ان اقسام کے بیان کرنے کے بعد امام صاحب نے ہر ایک کی متعدد مثالیں لکھیں ہیں، مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ قیامت میں موت مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی اور ذبح کر دی جائے گی، اس کو وجودِ حسی قرار دیا گیا ہے یا مثلاً حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم نے فرمایا کہ میں یونس کو دیکھ رہا ہوں۔ الخ اس کو وجود خیالی کی مثال میں پیش کیا ہے۔

تفصیلی مثالوں کے بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ شریعت میں جن چیزوں کا ذکر آیا ہے ان کے وجود کا مطلقاً انکار کرنا کفر ہے، لیکن اگر اقسامِ مذکورہ بالا سے کسی قسم کے مطابق اس کا وجود تسلیم کیا جائے تو یہ کفر نہیں ہے، کیونکہ یہ تاویل ہے اور تاویل سے کسی فرقہ کو مفر نہیں۔ سب سے زیادہ امام احمد بن حنبل تاویل سے بچتے ہیں لیکن مفصلۂ ذیل حدیثوں میں ان کو بھی تاویل کرنی پڑی۔

”حجر اسود خدا کا ہاتھ ہے، مسلمانوں کا دل خدا کی انگلیوں میں ہے، مجھ کو یمن سے خدا کی خوشبو آتی ہے“۔پھر لکھتے ہیں کہ احادیث میں آیا ہے کہ اعمال تولے جائیں گے، چونکہ اعمال عرض ہیں اور وہ تولے نہیں جائیں گے اس لیے سب کو تاویل کرنی پڑی۔ اشاعرہ کہتے ہیں کہ نامۂ اعمال کے کاغذ تولے جائیں گے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ تولنے سے انکشافِ حقیقت مُراد ہے۔ بہر حال تاویل دونوں کو کرنی پڑی، باقی جو شخص اس بات کا قائل ہے کہ نفس اعمال جو عرض ہیں وہی تولے جائیں گے اور انہی میں وزن پیدا ہو جائے گا، وہ سخت جاہل اور عقل سے بالکل معرّا ہے۔

اس کے بعد امام صاحب تاویل کے اصول بتاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ جن اشیاء کا ذکر شریعت میں ہے اوّل اس کا وجود ذاتی ماننا چاہیے، اگر کوئی دلیلِ قطعی موجود ہو کہ وجودِ ذاتی مُراد نہیں ہو سکتا تو وجودِ حسّی، پھر خیالی، پھر عقلی، پھر شبہی، اب بحث یہ رہ جاتی ہے کہ ایک کے نزدیک جو دلیل قطعی ہے دوسرے کے نزدیک نہیں مثلاً اشعری کے نزدیک اس بات پر دلیل قطعی قائم ہے کہ خُدا کسی جہت کے ساتھ مخصوص نہیں ہو سکتا، لیکن حنبلیہ کے نزدیک اس پر کوئی دلیل نہیں، ایسی تاویلات کی صورت میں کسی کو کافر نہیں کہنا چاہیے، زیادہ سے زیادہ گمراہ اور بدعتی کہا جا سکتا ہے۔

اوپر جائیں


تاویل کے متعلق امام صاحب کی رائے
پھر لکھتے ہیں کہ جب تاویل کی بناء پر ہم کسی کو کافر کہنا چاہیں تو پہلے ان امور کو دیکھنا چاہیے کہ وہ نص قابلِ تاویل ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو یہ تاویل قریب ہے یا بعید، وہ نص بہ​تواتر ثابت ہے یا بہ​آحاد یا اجماعِ امّت، اگر یہ تواتر ہے تو تواتر کے تمام شرائط پائے جاتے ہیں یا نہیں، تواتر کی تعریف یہ ہے کہ اس میں کسی طرح شک نہ ہو سکے، مثلاً انبیاء اور مشہور شہروں کا وجود یا قرآن، یہ چیزیں متواتر ہیں لیکن قرآن کے سوا اور چیزوں کا ثابت ہونا نہایت غامض ہے کیوں کہ یہ ممکن ہے کہ ایک گروہِ کثیر ایک امر پر متفق ہو جائے اور اس کو بہ​تواتر بیان کرے۔

جس طرح شیعہ حضرت علیؓ کی ولایت کی حدیث بیان کرتے ہیں اجماع کا ثابت ہونا اور بھی مشکل ہے، کیونکہ اجماع کے یہ معنی ہیں کہ تمام اہلِ حل و عقد ایک امر پر متفق ہو جائیں اور پھر ایک مدت تک اور بعضوں کے نزدیک تا انقراضِ عصرِ اوّل اس اتفاق پر وہ لوگ قائم رہیں، اس پر بھی یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے کہ ایسے اجماع کا منکر بھی کافر ہے یا نہیں، کیونکہ بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ جب اجماع کے منعقد ہونے کے وقت ایک شخص کا اختلاف کرنا جائز تھا تو اب کیوں جائز نہ ہو۔

پھر یہ دیکھنا چاہیے کہ گو تواتر یا اجماع ہو چکا لیکن تاویل کرنے والے کو بھی اس اجماع یا تواتر کا یقینی علم تھا یا نہیں، اگر نہیں ہے تو وہ مُخطی ہو گا مکذب نہ ہو گا۔

پھر یہ دیکھنا چاہیے کہ جس دلیل کی وجہ سے وہ شخص تاویل کرتا ہے وہ شرائطِ برہان کے موافق دلیل ہے یا نہیں؟ شرائطِ برہان کی تفصیل کے لیے مجلّدات درکار ہیں اور ہم نے محک النظر میں تھوڑا سا بیان کیا ہے لیکن فقہائے زمانہ اکثر اس کے سمجھنے سے عاجز ہیں، اب اگر وہ دلیل قطعی ہے تو تاویل کی اجازت ہے اور اگر قطعی نہیں تو تاویل قریب کی اجازت ہو سکتی ہے نہ کہ بعید کی۔

پھر یہ دیکھنا چاہیے کہ مسئلہ زیرِ بحث کوئی اصولِ دین کا مسئلہ ہے یا نہیں، اگر نہیں ہے تو اس پر چنداں گیرودار نہیں، مثلاً شیعہ امام مہدی کا سرداب میں مخفی ہونا مانتے ہیں، یہ ایک وہم پرستی ہے لیکن اس اعتقاد سے دین میں کوئی خلل نہیں آتا۔

اب جب تم کو یہ معلوم ہوا کہ تکفیر کے لیے تمام مراتبِ مذکورہ بالا کا لحاظ ضرور ہے تو تم سمجھ گئے کہ اشعری کی مخالفت پر کسی کو کافر کہنا جہل ہے اور فقیہ صرف علمِ فقہ کی بنا پر مہماتِ مذکورہ بالا کا کیوں کر فیصلہ کر سکتا ہے، لہٰذا تم جب دیکھو کہ کوئی فقیہ آدمی جس کا سرمایۂ علم صرف فقہ ہے، کسی کی تکفیر یا تضلیل کرتا ہے تو اس کی کچھ پرواہ نہ کرو۔

پھر ایک موقع پر لکھتے ہیں کہ ”جو چیز اصول و عقائد سے تعلق نہیں رکھتی اس میں تاویل کرنے پر تکفیر نہیں کرنی چاہیے، مثلاً بعض صوفیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ نے آفتاب و ماہتاب کو خدا نہیں کہا تھا، کیونکہ اجسام کو خُدا کہنا ان کی شان سے بعید ہے بلکہ انہوں نے جواہر فلکیہ نورانیہ دیکھے تھے اور ان کو خُدا سمجھا تھا تو ایسی تاویل پر تکفیر اور تبدیع نہیں کرنی چاہیے۔“

اوپر جائیں


قدیم علمِ کلام کا طرزِ استدلال
یہ تمام بحث تو ان مسائل کی نسبت تھی جو غلطی سے علمِ کلام میں مستزاد کر دیے گئے تھے، لیکن جو مسائلِ اصلی تھے ان کی نسبت یہ مرحلہ باقی تھا کہ ان کے اثبات کا طریقہ اور طرزِ استدلال کہاں تک درست ہے، متکلمین جس طریقہ سے ان کو ثابت کرتے تھے نہ وہ نقلی تھے نہ وہ اصولِ عقلیہ کے معیار پر ٹھیک اترتے تھے۔ بہت بڑی دلیل جو اکثر عقائد کے اثبات کے لیے کام میں لائی جاتی تھی تماثلِ اجسام کا مسئلہ تھا، یعنی یہ کہ تمام اجسام کی ایک حقیقت اور ایک ناہیت ہے، شرح مقاصد میں اس کی نسبت لکھا ہے:

وهذا اصل ينبي عليه كثير من قواعد الاسلام كاثبات القادر المختار وكثير من احوال النبوة والمعاد۔
”یہ وہ اصل ہے جس پر اسلام کے بہت سے اصول مبنی ہیں، مثلاً قادرِ مختار کا وجود اور نبوت و معاد کے بہت سے حالات“۔

تماثل اجسام کا ثبوت ہونا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے، اس لیے اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اکثر عقائدِ اسلامی کا اثبات اسی مسئلہ کے ثابت کرنے پر موقوف ہے تو خود ان عقائد کی بنیاد متزلزل ہو جائے گی۔ اِن وجوہ سے امام صاحب نے متکلمین کے استدلال و احتجاج کے طریقے کو چھوڑ کر تمام مسائل پر نئی دلیلیں قائم کیں۔ ان میں سے بعض ایسی تھیں جن کو حکماء استعمال کرتے تھے لیکن امام صاحب کا یہ مشرب تھا کہ
؏ متاعِ خوش زہر دُکّاں کہ باشد۔

ممکن ہے کہ ایک گروہِ کثیر ایک روایت پر متفق ہو جائے اور وہ درحقیقت صحیح نہ ہو مثلاً حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کو شیعوں کا تمام گروہ جو لاکھوں اور کروڑوں سے متجاوز ہے، بتواتر بیان کرتا ہے، حالانکہ درحقیقت وہ متواتر نہیں۔

اوپر جائیں


اجماع
تکفیر کا ایک بڑا سبب اجماع کا انکار کرنا قرار دیا جاتا تھا، یعنی یہ کہا جاتا تھا کہ فلاں مسئلے پر چونکہ اجماع ہو چکا ہے، اس لیے اس کا منکر کافر یا کم از کم فاسق و گمراہ ہے۔

امام صاحب نے بتایا کہ اجماع کا ثابت ہونا تواتر سے بھی زیادہ مشکل ہے، کیونکہ اجماع کے یہ معنی ہیں کہ تمام اہلِ حل و عقد ایک امر پر متفق ہو جائیں اور ایک مدّت تک اس اتفاق پر قائم رہیں۔ بعضوں کے نزدیک یہ اتفاق عصرِ اوّل کے گزر جانے تک قائم رہنا چاہیے۔ فرض کرو کہ ایسا اجماع ہو بھی تو یہ کیونکر ثابت ہو سکتا ہے کہ جو شخص اس مسئلہ کا منکر ہے اس کو بھی اس اجماع کا یقینی علم ہے، یہ بھی فرض کرو کہ علم بھی ہے لیکن جب عین اجماع کے وقت اجماع سے مخالفت کرنی جائز تھی تو اب کیوں جائز نہ ہو۔

ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ ہر قسم کے مسائل پر بلا امتیاز کفر و فسق کا حکم نافذ کیا جاتا تھا۔ امام صاحب نے بتایا کہ گو ایک مسئلہ سر تا پا غلط ہو لیکن اگر وہ اصولِ دین سے نہیں ہے تو اس پر مواخذہ نہیں ہو سکتا، مثلاً شیعہ کہتے ہیں کہ امام مہدی سامّا کے سرداب میں مخفی ہیں، یہ واقعہ گو غلط ہو لیکن اس کو اصولِ دین سے کچھ تعلق نہیں، اس لیے اگر کوئی شخص اس کا قائل ہو تو اس کو گمراہ نہیں کہہ سکتے یا مثلاً بعض صوفیہ کہتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں جو مذکور ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے چاند اور سورج کو پہلے خدا کہا تھا اس سے چاند اور سورج مُراد نہیں بلکہ انوار الٰہی مراد ہیں تو اس بنا پر ان صوفیہ کو مبتدع اور گمراہ نہیں کہہ سکتے۔

غرض تکفیر کی جو جو وجہیں لوگوں نے قائم کی تھیں امام صاحب نے سب کو ردّ کیا اور قطعی دلائل سے ثابت کیا کہ تمام کلمہ گو مسلمان ہیں اور اسلامی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں، آپس میں جو اختلافات ہیں وہ اصل اسلام سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ اجتہادی اور فروعی باتیں ہیں جن کی حد اس سے آگے نہیں بڑھتی کہ ان میں سے ایک صحیح ہو اور دوسری غلط ہو۔

امام صاحب نے یہ فیاضی اپنے ہم مذہبوں پر محدود نہیں رکھی، بلکہ اُن کی رائے میں بجز اُن کفار کے جن کے سامنے اسلام کی حقیقت پورے طور پر ظاہر کر دی جائے اور پھر وہ ایمان نہ لائیں، باقی سب مجبور و معذور ہیں، چنانچہ رسالہ تفرقہ میں لکھتے ہیں:

بل اقول اكثر نصارى الروم والترك في ھٰذا الزمان تشملهم ال رحمة ان شاء اللّٰه تعالىٰ۔
”بلکہ میں کہتا ہوں کہ اکثر نصاریٰ روم اور ترک جو ہمارے زمانہ میں ہیں ان کو رحمت الٰہی ان شاء اللّٰه شامل ہو گی“۔

امام صاحب کی اس فیاضی پر اگرچہ ابتداء میں بہت مخالفت ہوئی لیکن بالآخر یہ علمِ کلام کا مسئلہ بن گیا کہ اہلِ قبلہ جس قدر ہیں سب مسلمان ہیں، چنانچہ علمِ کلام کی تمام کتابوں کا خاتمہ اسی مسئلہ پر ہوتا ہے۔

عملی طور پر امام صاحب کی کوشش کا جو اثر ہوا وہ یہ تھا کہ اشعریہ و حنابلہ جو آپس میں ضدِّ یک و گر تھے اور جن میں اختلافاتِ عقائد کی بناء پر بارہا خونریزیاں ہو چکی تھیں، رفتہ رفتہ ان کا اختلاف کم ہوتا گیا، یہاں تک کہ بجز بعض مستثنیات کے اشاعرہ اور حنابلہ عموماً شیر و شکر ہو گئے۔

دار الخلافہ بغداد کے سُنی و شیعہ میں بھی ۵۰۲ ھ میں صلح ہو گئی اور وہ خونریزیاں جن کی بدولت بغداد کے محلے کے محلے برباد ہو گئے تھے دفعۃً رُک گئیں۔

اوپر جائیں
رسالہ ہٰذا (طبع اوّل) کے متعلق فاضل قارئین کے
”تأثرات“
علماءِ کرام و مشائخِ عظام
۱ ۔ مولانا مجاہد الحسینی صاحب مدیر رسالہ صوت الاسلام فیصل​آباد
۲۔ مولانا عبدالرشید ارشد صاحب ناظمِ اعلیٰ اتحاد العلماء پاکستان
۳ ۔ صاحبزادہ میاں محمد ضمیر الحق صاحب امیرِ جماعتِ سراجیہ فیصل​آباد
ادیب دانشور اور ماہرین تعلیم
۱۔ جناب حافظ لدھیانوی صاحب (قومی ایوارڈ یافتہ نعت گو، شاعر وادیب) فیصل​آباد
۲ ۔ سید ابرار حسین صاحب گیلانی پروفیسر زرعی یونیورسٹی فیصل​آباد
۳۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب قریشی ڈائریکٹر تعلیمات (کالجز) فیصل​آباد ڈویژن
۴۔ چوہدری ریاض احمد صاحب ڈائریکٹر تعلیمات (سکولز) فیصل​آباد ڈویژن
نژادِ نو
۱ ۔ ڈاکٹر یوسف حسّان خان سابق میڈیکل آفیسر الائیڈ ہسپتال فیصل​آباد
۲۔ سید مظہر حسین نقوی جنرل سیکرٹری انجمن ساداتِ پاکستان فیصل​آباد

پہلی اشاعت کے بعد رسالہ ہٰذا بہت سے علماء کرام، مشائخِ عظام، دانشور حضرات اور نژادِ نو کے سوچ بچار کرنے والے نوجوانوں کے زیر مطالعہ آیا، چنانچہ اس کے مندرجات سے اتفاق کرتے ہوئے بہت سے اصحاب نے ہماری اس کوشش کو سراہا اور موجودہ دور میں وحدتِ امت کی ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر اس کی مزید اشاعت و تقسیم پر زور دیا۔

ان میں سے دو حضرات محترم المقام صوفی ابو انیس محمد برکت علی لدھیانوی صاحب دار الاحسان فیصل​آباد اور جناب پروفیسر عبدالغفور صاحب سابق وفاقی وزیر و نائب امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان کی نگارشات کو ٹائٹل کے اندرونی صفحات پر دیا جا رہا ہے، علاوہ ازیں رسالہ ہذا کے بارے میں مختلف شعبہ​ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے چند حضرات کے تاثرات آئندہ صفحات پر دیے جا رہے ہیں۔

یوں تو ہماری دلی خواہش تھی کہ ہم دیگر سب حضرات کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کو رسالہ ہٰذا کی زینت بناتے، لیکن تنگ دامانی اس خواہش کی راہ میں ہمارے آڑے آئی، تاہم ان کی آراء کی روشنی میں زیرِ نظر اشاعت میں مناسب اصلاح واضافہ کیا گیا ہے، بہر حال ہم ان سب احباب کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ فجزاھم اللّٰه احسن الجزاء

عالمِ دین صحافی: مولانا مجاہد الحسینی
مدیر رسالہ ”صوت الاسلام“
فیصل​آباد
اللّٰه تعالیٰ نے دور حاضر کے افتراق انگیز اور پُر تشدد ظُلمت​کدے میں اُمتِ مسلمہ کی وحدت اور مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد کے فانوس روشن کرنے کا فریضہ انجام دینے والے مخلصین کو اس سعادت سے نوازا ہے کہ وہ کفر و شرک اور باطل کی یلغار کا پوری استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ رُخ موڑنے کی سعئی کر رہے ہیں، ان میں حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب خطیب جامع مسجد کریمیہ فیصل​آباد کی شخصیت منفرد اور ممتاز ہے، میرے مخلص کرم فرما حافظ محمد سلیمان صاحب سمن​آبادی کی زبانی حضرت مولانا محمد اسحاق کی علمی خوبیوں کا اکثر تذکرہ سنا تھا، مگر ان سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوا تھا، ایک روز از خود ہی تشریف لے آئے اور ”وحدتِ اُمّت“ کے عنوان سے ایک کتابچہ عنایت فرمایا، یہ کتابچہ اہلِ قبلہ کی تکفیر اور فقہی اختلافات کی بناء پر ملّتِ اسلامیہ میں زبردست محاذ آرائی کے خلاف ایک فکرانگیز اور مخلصانہ تحریر پر مشتمل ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مولانا موصوف نے مؤثر اور مدلل انداز میں امتِ مسلمہ کو وحدت و یگانگت اور اتحاد و اتفاق کی جو دعوت دی ہے اس پر لبیک کہتے ہوئے امت کے تمام مکاتبِ فکر اور مسالک کے حضرات اسے ایک منظم تحریک کی شکل دینے کی جدوجہد کا آغاز کریں، کیونکہ آج دنیا کے مختلف ممالک میں امّتِ مسلمہ کے خلاف کفار اور مشرکین اور مخالفینِ اسلام نے ایک متحدہ محاذ کی صورت میں جو یلغار شروع کر رکھی ہے اور صفحۂ ہستی سے مسلمانوں کا وجود مٹا دینے اور ختم کر دینے کے جو ہولناک اور لرزہ​خیز مظالم روا رکھے جا رہے ہیں، پوری امتِ مسلمہ کی وحدت اور اتفاق کے سب سے مؤثر اسلحے سے ہی ان کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے، ایک خطرناک یلغار اور ہمہ گیر تحریک کا مقابلہ تحریک اور تنظیم کی صورت میں ہی صحیح طورسے کیا جا سکتا ہے۔

دُعا گو ہوں کہ اللّٰه تعالیٰ اپنی نصرتِ خاص سے امّتِ مسلمہ کو دشمنوں کے شرور و فتن اور ان کے روز افزوں مظالم سے محفوظ و مصئون رکھنے کے اسباب مہیا فرمائے تا کہ عہدِ ماضی کی طرح حزب اللّٰه کو ہی غلبہ و فوقیت حاصل ہو جائے، آمین!

عالمِ دین ، ماہرِ تعلیم:
مولانا عبدالرشدید ارشد
ناظمِ اعلیٰ اتحاد العلماء پاکستان
عصر حاضر میں امتِ مسلمہ کی ابتری اور زوال کا سب سے بڑا سبب اس میں وحدت اور یکجہتی کا فقدان، باہمی جنگ و جدل اور ایسی فرقہ​وارانہ کشیدگی ہے جس میں باہم تکفیر و تفسیق کا عنصر شامل ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل فیصل​آباد کے مشہور محقق عالم دین مولانا محمد اسحاق صاحب نے وحدتِ امت کے موضوع پر ایک مبسوط و مدلل خطبہ ارشاد فرمایا تھا، جسے سامعین نے اپنے دل کی آواز اور ملت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اس ترتیب و تدوین کے ساتھ شائع کر دیا۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ مولانا محمد اسحاق صاحب کے ارشادات وقت اور ملت اسلامیہ کے تقاضوں کی خوبصورت صدائے بازگشت ہیں اور وہ اس قابل ہیں کہ انہیں ہر جگہ سنا اور پڑھا جائے۔ یہ مختصر علمی مجموعہ بیک وقت عوام اور علماء دونوں کے لیے معلومات​افزا ہونے کے ساتھ ساتھ فرقہ​وارانہ کشیدگی میں توازن اور اعتدال پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو گا۔ دعا ہے کہ مولانا موصوف کے دِلِ درد مند سے نکلی ہوئی یہ صدا لوگوں کے دلوں کی دھڑکن اور روحوں کی جِلا بن سکے۔
؏ ایں دُعا از من واز جملہ جہاں آمین باد! (ملخص)


پیرِ طریقت، ماہرِ تعلیم:
صاحبزادہ میاں محمد ضمیر الحق
امیرِ جماعت سراجیہ، فیصل​آباد
مولانا محمد اسحاق صاحب کا کتابچہ ”وحدتِ امت“ پڑھ کر انتہائی مسرّت اور خوشی ہوئی، انہوں نے ایک اہم موضوع پر بروقت اظہارِ خیال کیا ہے، پوری امّہ اور خاص طور پر پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کی ضرورت ناگزیر ہے۔ انتشار، فرقہ​واریت اور تنگ​نظری کی آگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، آپ نے وحدتِ امت لکھ کر اس دہکتی آگ کو بجھانے کی پر خلوص کوشش کی ہے، اللّٰه تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور غیروں کے علاوہ اپنوں کے شر سے بھی محفوظ رکھے۔

جماعتِ سراجیہ فیصل​آباد وحدتِ امت اور اتحادِ ملت کی نہ صرف نقیب اور داعی ہے، بلکہ خصوصی اور عمومی سطح پر شب و روز کوشاں بھی ہے، جس کے نتیجے میں ہم بیگانوں سے زیادہ اپنوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ جماعت تعصب، تنگ​نظری اور فرقہ​واریت کے خلاف ہمیشہ صف​آرا رہی ہے۔ خُدا کرے ہر مکتبۂ فکر میں آپ جیسے ملّت کے خیر خواہ پیدا ہوں اور ان کی کوششیں رنگ لائیں اور یہ بکھری ہوئی قوم تنِ واحد بن جائے، آمین!

ادیب، شاعر: (نعت گوئی میں صدارتی ایوراڈ یافتہ)
جناب حافظ لدھیانوی
مکرمی و محترمی مولانا محمد اسحاق دامت برکاتہم کی تصنیفِ لطیف ”وحدتِ اُمّت“ کا مطالعہ کر کے یوں محسوس ہوا جیسے تپتے صحرا میں اچانک بہار کے پہلے جھونکے نے جسم و جاں کو معطر کر دیا ہو، اس کتابچہ میں اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین العلماء کا جو درس دیا گیا ہے وہ انتہائی مستحسن کوشش اور بابرکت سعئی جمیلہ ہے، اگر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور پیرانِ عظام اسی انداز میں سوچیں اور اُن کے افکار و خیالات میں محبت کے پہلو اور باہمی الفت کے پیغامات ہوں تو یہ فروعی اختلافات وجہِ نزاع نہ بنیں۔

ہر کلمہ گو خداوند کریم کو وحدہٗ لا شریک اور ختمی مرتبت صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کو خاتم النّبیین مانتا ہے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ مسلمان ہے۔ کلامِ پاک کا ارشاد ہے: ”سب مسلمان بھائی بھائی ہیں“۔ ہم سب ایک ہی چشمۂ فیوض و برکات سے سیراب ہوتے ہیں۔ سب کے افکار و خیالات کا مرکز و محور قرآنِ مجید اور احادیث نبوی صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم ہے، قرآن و سنت ہی سب کی رہنمائی کا ماخذ ہے، پھر جھگڑے کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔

حکیم الامت علامہ اقبال رحمۃ اللّٰه علیہ نے اپنے خطبات، مکتوبات اور اشعار میں وحدتِ ملّت اور وحدتِ امّت ہی کو موضوعِ سخن بنایا ہے، اس دورِ اختلافات میں اسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، مذہب میں فروعی اختلافات سے کفر لازم نہیں آتا، اگر یہ اختلافات نیک نیتی پر مبنی ہوں، علمی اور نظریاتی سطح پر ہوں تو کوئی قابلِ گرفت بات نہیں، اگر یہ علیحدہ تشخص قائم کرنے اور ایک فرقے کی بنیاد بن جائیں اور ہر فرقہ دوسرے کے نظریات کی تکذیب اور تکفیر کرنے لگے تو سازگار ماحول کیسے میسر آ سکتا ہے۔

مولانا موصوف نے وحدتِ اُمّت میں نہایت شرح و بسط اور انتہائی فراخدلی اور علمی انداز میں اپنے موقف کو پیش کیا ہے اور آپس میں صلح و آشتی، محبت و اخوت کا پیغام دیا ہے جو آج کے دورِ فتنہ و فساد میں ایک اہم اور مؤثر تحریر ہے، جس سے فروعی اختلافات ختم کرنے اور مسلمانوں میں اتحاد و یگانگت کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی، اگر ہر مسلک کے علماء یہی روش اختیار کریں اور مولانا کے طرز عمل اور فکر و نظر کو تبلیغِ دین کا ذریعہ بنائیں تو ماحول میں خوشگوار انقلاب پیدا ہو سکتا ہے اور تمام بے بنیاد جھگڑوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

دانشور، ماہرِ تعلیم:
سید ابرار حسین گیلانی
پروفیسر زرعی یونیورسٹی فیصل​آباد
مسلمانوں کے اندر جس وقت تک یہ احساس تازہ رہا کہ ان کا خالق وحدہٗ لا شریک ہے، ان کے ہادی و رہنما حضرت رسول اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم ہیں اور اسلام ان کا دین ہے تو وہ بنیانِ مرصوص کی طرح رہے اور انہیں کوئی بڑی سے بڑی قوت چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں بانٹ کر باہمی نفرت سے دوچار نہ کر سکی، مگر جب یہ اساس ڈھیلی ہوئی تو اُمّتِ مسلمہ گروہوں میں بٹتی چلی گئی، اس تفریق و انتشار میں دیگر عوامل کے علاوہ ایک اہم عامل فرقہ​بندی کا ہے، فرقوں کا باہمی اختلاف مسلمانوں کے اندر افتراق کا باعث بنا ہوا ہے، اپنے علاوہ باقی فرقوں کو مسلمان نہ سمجھنا اور کسی دوسرے کی امامت میں نماز ادا کرنے کا روادار نہ ہونا، اس کے افسوس ناک پہلو ہیں۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ زیرِ نظر رسالہ ”وحدتِ اُمّت“ میں مولانا محمد اسحاق صاحب نے اس غلط موقف کا مدلل اور مستند طریقے سے رد کیا ہے۔ مولانا موصوف کی اس کاوش پر انہیں مبارک​باد دیتا ہوں اور قوی امید رکھتا ہوں کہ یہ رسالہ وحدتِ مِلّت کے عمل کو آگے بڑھانے میں مفید و معاون ہو گا۔ ان شاء اللّٰه ۔

دانشور، ماہرِ تعلیم:
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی
ڈائریکٹر آف ایجو کیشن (کالجز)
فیصل​آباد ڈویژن
رسولِ اکرم صلى اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی رسالت کے حوالے سے جو اُمت وجود میں آئی وہ رنگ و نسل، زبان و بیان اور علاقے اور خطے کے تفاوت کے باوجود ایک ملّت کہلائی۔

ایمان کی دولت نے اُسے وحدت کا شرف بھی عطا کر دیا۔ اس کے رویے یکساں پائے گئے۔ تو اس کی چاہتیں بھی مرکز آشنا ہو گئیں، اپنے اور غیر کا مفہوم بدل گیا۔ مکہ مکرمہ کا قریشی النسب تسلیم کی توفیق سے بے​بہرہ رہا تو اپنا نہ رہا اور حبش کا غلام سرِ نیاز جھکانے کا اہل ٹھہرا تو محترم بھی ہوا اور اپنا بھی۔ اسی لیے علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے کہا تھا
؏ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِؐ ہاشمی

مگر بدقسمتی یہ ہوئی کہ وحدت کا نقیب دورِ زوال کی زہر سامانیوں کی وجہ سے افتراق کا پرچارک بن گیا۔ دوسروں کو درسِ محبت دینے والا اپنوں کا گلا کاٹنے لگا۔ اہل کتاب کو ”تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ“ کی دعوت دینے والا اپنے کلمہ گو بھائی پر کفر کے تیر برسانے لگا، مولانا حالی نے اس اندوہ​ناک صورتِ حال کی طرف اشارہ کیا تھا کہ
؏ اس دین میں اب بھائی سے بھائی بھی جدا ہے

یہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ یہ ایک طویل داستان ہے، سوال صرف اتنا ہے کہ اب اس کا ازالہ کیسے ممکن ہے؟ اس کا جواب اہلِ نظر پر مخف نہیں۔ ہر کہیں احساس موجود ہے، صرف اک عزمِ صادق درکار ہے، ہر گروہ، ہر مسلک، ہر مکتبۂ فکر اپنی روش میں اعتدال پیدا کرے، ایک دوسرے کو برداشت کا حوصلہ پیدا ہو، کیونکہ مشاہدہ یہ ہے کہ وحدت کی دعوت میں قربانی کا عنصر کم ہوتا ہے۔ اتحاد کی اپیل سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ اے لوگو تم سب اپنے مسالک ترک کر دو، گروہ چھوڑ دو، میرے ساتھ مِل کر ایک ہو جائو۔ ایسی دعوت، وحدتِ امّت کے لیے نہیں اپنے طریقۂ عمل کی تبلیغ کے لیے ہوتی ہے، اس لیے نتیجہ​خیز نہیں ہوتی، سٹیج پر اتحادِ ملّی کا وعظ کہنے والا خود کسی مکتبۂ فکر کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ مسالک کا درس دینے کی بجائے نباہ کرنے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور مشترک مقاصد کے لیے متحد ہونے کی دعوت دی جائے، تم اپنے روّیوں میں سچے ہو گے مگر دوسروں کو جھوٹا تو نہ کہو۔ انسانی فکر میں تنوّع ہے اور ہونا چاہیے، مگر اس تنوّع میں ہم​رنگی کا سامان پیدا ہونا چاہیے، یہ اندازِ فکر جب عملی اظہار میں یکسانیت پیدا کرے گا تو اسی وقت وقارِ ملت کا دروا ہو گا۔ ایسی کوشش لازم ہے وقت کا تقاضا ہے اور ملّت کی ضرورت ہے مولانا محمد اسحاق صاحب کا مختصر کتابچہ ”وحدتِ امّت“ نظر سے گزرا، قدرے اطمینان ہوا کہ درست قسمت میں پیش رفت تو ہوئی، یہ ابتدائی اقدام ہے اس پر کام ہونا چاہیے، ہر صاحبِ دل کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے تا کہ وحدتِ امّت ایک حقیقت بن سکے اس لیے کہ لہجہ کی نرمی، ریشمی الفاظ کا انتخاب، پیشکش کی بے​لوثی اور خلوص کی فراوانی درکار ہے، خواہش رکھتا ہے کہ وحدت کی اس دعوت میں دلجوئی کا انداز مزید مستحکم ہو، جملے اور زیادہ دلنشیں ہوں اور تلخی کی کوئی صورت برقرار نہ رہے دل دُکھے تو ایسا ہو جاتا ہے مگر مقصد کی عظمت پر جذبات کو قُربان کر دینا وقت کا تقاضا ہے اللّٰه کرے یہ مشن بے​غرضی سے جاری رہے اور قوم کی پریشانیوں کا مداوا کرے۔ میں مولانا اور ان کے احباب کے لیے دُعا گو ہوں کہ اللّٰه تعالیٰ ان کے ارادوں کو پختگی عطاء فرمائے اور ملتِ اسلامیہ کو وحدت آشنا ہونے کی توفیق دے آمین!

دانشور، ماہرِ تعلیم:
چوہدری ریاض احمد
ڈائریکٹر آف ایجوکیشن (سکولز)
فیصل​آباد ڈویژن
اُمتِ مسلمہ آج جس افتراق و انتشار کا شکار ہے اس کے بہت سے اسباب ہیں، لیکن ان میں سے سب سے اہم سبب فرقہ​بندی ہے، ہمارے مذہبی مدارس اور مساجد اسلامی اتحاد کے بجائے تکفیر و تعصب کے مراکز بن گئے ہیں، اب تو مذہبی جماعتیں منظم سیاسی تنظیموں میں تبدیل ہو گئی ہیں، اگرچہ سب کا منشور ملک میں اسلامی نظام کا قیام ہے اور اپنی اپنی جگہ ہر کوئی جماعت اور اس کے داعیان امتِ مسلمہ کے اتحاد کے نقیب ہیں لیکن نتائج کے اعتبار سے صورتِحال اس کے برعکس ہے۔

تاہم ان تکلیف​دہ حالات میں دردِ دل رکھنے والے عُلماء اور زعماء کی بھی کمی نہیں جو مقدور بھر اتحادِ امتِ مسلمہ کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں، وحدتِ امت کے لیے ایسے ہی دردِ دل رکھنے والے علماء میں سے ایک مخلص و مستعد عالمِ دین حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب نے ”وحدتِ امّت“ کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا ہے جس میں دلائل اور مستند حوالوں کے ساتھ قرنِ اوّل اور ما بعد کے صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم، ائمہؒ اور محدثینؒ کے باہمی علمی و فقہی اختلافات کا ذکر کیا ہے، لیکن حضور ختمی مرتبت صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کے فرمان کے مطابق کہ ”اختلاف میری امت کے لیے رحمت ہے“۔ ان بزرگوں نے اسلامی اخوت کو بہر صورت برقرار رکھا، مولانا نے مستند روایات کی روشنی میں بہت سی مثالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی شخص کے واضح انکارِ اسلام کے علاوہ محض شبہ یا تعبیر و تشریح میں اختلاف کی بنا پر کسی مسلمان کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عالمِ اسلام بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص دین سے عمومی لگائو کے باوجود تکفیر، نفرت اور تعصب کی جو فضا پیدا ہو چکی ہے اس کے پیش نظر اُمت میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لیے مولانا موصوف اور دیگر علماء و اکابرین مِلّت کو متحد کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے تا کہ
”یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل بن جائے“۔ (ملخص)

نژادِ نو:
ڈاکٹر یوسف حسان خان
سابق میڈیکل آفیسر الائیڈ ہسپتال
فیصل​آباد
اہلِ قبلہ کی تکفیر اور فقہی اختلافات کی بنا پر ملّت میں محاذآرائی کے سدِ باب پر مولانا محمد اسحاق صاحب کا مؤقر رسالہ ”وحدتِ امت“ نظر سے گزرا جس میں نہایت مدلّل طریقے سے جملہ حوالوں کے ساتھ یہ سعئی کی گئی ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے مابین اتحاد و اتفاق کے وسیلے تلاش کیے جائیں اور جس غلط رویے نے امت کے درمیان تقسیم در تقسیم کی بنیاد ڈالی اس کا تدارک کیا جائے۔

میں اس مقالے کو ایک صحیح کوشش قرار دوں گا جو ایک صحیح وقت پر کی گئی۔ اتحادِ ملّت کی جتنی اشد ضرورت ہمیں آج ہے شاید کبھی بھی نہ تھی، مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان اختلافات، جو تاریخ کے مختلف ادوار میں کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتے رہے ہیں، اِس پُر آشوب دور میں اس نہج پر پہنچتے نظر آتے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف مسلح گروہ منظم کیے جا رہے ہیں اور صرف فقہی اختلافات کی بنا پر ایک جماعت دوسری جماعت کو نیست ونابود کرنے کی کوشش میں نظر آتی ہے، ایک طرف تو بوسنیا اور کشمیر کے مسلمانوں پر یہ قیامت ٹوٹی ہے کہ ان کی نسل کشی کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف ہمارے بعض علماء اپنے ہی بھائی بندوں کو تکفیر کی چُھری سے ذبح کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق اور محاذآرائی اتنی بڑھا دی گئی ہے کہ ان کو ایک دوسرے کا وجود برداشت کرنا بھی گوارا نہیں رہا۔

مولانا موصوف یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنی اس کاوش سے تکفیربازی اور فقہی اختلافات کی بناء پر پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی ہے اور اس راستے کی نشاندہی کی ہے جس پر چل کر ہم لوگ وحدتِ امت کی منزل پا سکتے ہیں۔

میری دُعا ہے کہ اللّٰه جل شانہ مولانا کو اس کاوش کا اجر عطاء فرمائیں اور اس مقالے کو اتحاد اُمت کا ایک وسیلہ بنا دیں آمین!

نژادِ نو:
سید مظہر حسین نقوی
جنرل سیکرٹری انجمن ساداتِ پاکستان
فیصل​آباد
اُستادِ مکرم جناب حافظ محمد سلیمان صاحب کی شفقت سے جناب مولانا محمد اسحاق صاحب کے خطبۂ جمعہ پر مبنی رسالہ ”وحدتِ امت“ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ آج جب فرقہ​واریت کی بادِ سموم مسلمانانِ عالم کے افکار و اذہان کو جھلسا رہی ہے، عالمِ اسلام اس امر پر دست و گریباں ہے کہ ہاتھ کھول کر نماز پڑھیں یا باندھ کر (جب کہ دشمنانِ اسلام اُن کے ہاتھ کاٹنے کی فکر میں ہیں) وحدتِ امت کی سوچ مفقود اور ذاتی اغراض پر مبنی افکار کو اسلامی پیرہن میں سجایا جا رہا ہے تا کہ مادی منفعت کا حصول ممکن ہو سکے۔ ایسے وقت میں وحدتِ امّت کی سوچ بارش کے پہلے قطرے سے کم نہیں۔

یہ ایک نہایت جرأت​مندانہ اقدام ہے جس کے لیے سوچ کے اس داعی کو داخلی اور خارجی مزاحمت کا یقیناً سامنا ہو گا۔ لہٰذا
؏ ان چراغوں کو ہوا میں بھی جلائے رکھنا
اوپر جائیں
اشاعت ۱.۰ - ۲۰۱۸۱۰۱۶ع - ۱۴۴۰۰۲۰۷ھ
site@karachvi.com